The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین کا اہم جزو کیا ہے اور کیسا ہے؟ ماہرین نے بتا دیا

نیویارک : فائزر اور موڈرنا کی بنائی ہوئی اس ویکسین کا اہم جزو میسنجر آر این اے ہے جسے ایک ننھے سے بلبلے میں مقید کیا گیا ہے، یہ بلبلہ فیٹی ایسڈ سے تیار کردہ ہے جسے نینو پارٹیکل کہا جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں فائزر اس کی پارٹنر جرمن کمپنی بایو این ٹیک اور موڈرنا نامی امریکی کمپنی بالآخر اپنی اپنی ایجاد کردہ ویکسین دنیا کے سامنے لے آئے۔

دنیا بھر میں ڈرگ اتھارٹیز نے ان ویکسینز کو منظور کر لیا ہے، جن میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ڈبلیو ایچ او اور امریکی ادارہ ایف ڈی اے بھی شامل ہیں۔

اسی دوران چین کی ایک کمپنی بھی اپنی ویکسین ایجاد کرنے کا دعویٰ کرچکی ہے مگر ابھی وہ کلینیکل ٹرائلز کے مراحل میں ہے۔ سائنسی اور طبی نقطۂ نظر سے اولین دو ویکسینز کس طرح زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی اور ان ویکسینز کا میکنزم یا طریقۂ عمل کیا ہے۔

ویکسینز کا میکنزم یا طریقۂ عمل

یہ عام ویکسینز نہیں ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کے ایک بالکل نئی قسم کی ویکسینز ہیں۔ جنہیں عرفِ عام میں ہم میسنجر آر این اے ویکسینز کہہ سکتے ہیں، اب تک استعمال میں آنے والے ویکسینز کا طریقۂ عمل تقریباً سبھی جانتے ہیں۔ بنیادی فلسفہ یہی تھا کہ غیر مؤثر کئے گئے، میسنجر آر این اے انسانی جسم میں داخل کئے جاتے ہیں تاکہ جسم میں موجود قوت ِمدافعت کو متحرک کرکے ان کے خلاف لڑائی میں استعمال کئے جائیں۔

یہ انسانی صحت کو نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں، کیوں کہ یہ زیادہ درجۂ حرارت یا کیمیائی عمل کے ذریعے غیر مؤثر بنا دیئے جاتے ہیں لیکن ہمارے جسم میں موجود قوت ِمدافعت انہیں بیرونی حملہ آور سمجھتے ہوئے ان کے خلاف عمل پذیر ہوتا ہے اور اس کی مدافعت کے لیے اینٹی باڈیز بناتا ہے جو ایک طرح سے اس مخصوص وائرس کے خلاف انسانی جسم کا ہتھیار ہوتا ہے۔

اس لڑائی سے ان کی میموری میں یہ بیرونی اجسام اس طرح محفوظ ہوجاتے ہیں کہ جونہی اصل بیماری کا وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے، اینٹی باڈیز اسے پہچان کر حرکت میں آتے ہیں اور جسم کو کوئی نقصان پہنچانے سے قبل ہی اس وائرس کو ختم کر دیتے ہیں لیکن اس قسم کی روایتی ویکسینز کی تیاری ایک طویل اور پیچیدہ عمل سے گزر کر ہی ممکن ہوتی ہے اور فارماسوٹیکل انڈسٹریز کو ان کی بڑے پیمانے پر تیاری میں بہت سے دوسرے چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

سائنسدان اس میدان میں پہلے ہی ڈی این اے کے ذریعے ویکسینز کی تیاری میں کامیابی حاصل کرچکے تھے اور مزید کام کر رہے تھے۔ فائزر، بائیو این ٹیک اور موڈرنا کی ویکسینز اسی عمل کے ذریعے تیار کی گئی ہیں جنہیں ہم میسنجر آر این اے ویکسینز کہتے ہیں۔

نئی تیکنیک کے ذریعے جو ویکسینز تیار کئے گئے ہیں ان میں بیماری سے متعلق انسانی جسم میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ خود انسانی جسم اور خلیوں کے اندر ان اینٹی جینز کو بنا کر بیماری کے خلاف مدافعت تیار کی گئی ہے۔ اس پورے عمل کو سمجھنے کے لیے پہلے انسانی جسم اور اس میں موجود خلیاتی نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انسانی جسم کے اندر موجود خلیوں کی اساس ڈی این اے ہے۔ ڈی این اے دراصل وہ مالیکیول ہے، جس کی اندر انسان کی تمام تر جینیاتی خصوصیات محفوظ ہوتی ہیں۔ اس کے اندر وہ تمام اطلاعات موجود ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر یہ آگے خلیوں کو پروٹینز کی تعمیر کے لیے پیغام بھیجتا ہے اور یوں انسانی خلیئے ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پروٹین کے بڑے مالیکیولز کی تعمیر کرتے ہیں۔

ڈی این اے سے ان پیغامات کو آگے خلیوں تک پہنچانے کے لیے ایک اور مالیکیول کی ضرورت ہوتی ہے جسے میسنجر آر این اے کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہییے کہ اینٹی جینز جنہیں ویکسین کی شکل میں انسانی جسم میں وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرنے کی غرض سے داخل کیا جاتا ہے دراصل پروٹین ہی ہوتی ہیں جو وائرس کے سیل وال یا خلیاتی دیوار سے حاصل کیا جاتا ہے۔

ڈی این اے کی جینیاتی ترتیب کو سائنسی تحقیقات کے ذریعے بہت پہلے ہی ڈی کوڈ کرلیا گیا ہے اور اب یہ جاننا کوئی اسرار نہیں کہ جسم میں داخل کئے گئے اینٹی جینز کی جینیاتی ترتیب کون سے کیمیائی اجزاء پر مشتمل ہے۔ اب اصل ویکسین کی تیاری کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کی جینیاتی ترتیب سائنسدانوں نے پہلے ہی ڈی کوڈ کرلیا تھا۔ ڈیکوڈنگ کرنے کے بعد سیل کے اندر اس کی تعمیر کے لیے اس مخصوص کیمیائی ترتیب پر مشتمل میسنجر آر این اے کو لیباریٹری میں تیار کیا گیا اور پھر اس میسنجر آر این اے کو جسم میں ویکسین کی طرح داخل کیا گیا۔

یہ باہر سے ہدایات لے کرآتا ہے اور براہ راست انسانی مسلز کے اندر اس کے سیل تک پہنچ کر کورونا وائرس کے مساوی اینٹی جنز کی تعمیر کی ہدایات پہنچا رہا ہے۔ لہٰذا جب یہ اینٹی جینز تیار ہوئے تو انہوں نے جسم کے مدافعتی نظام کو تحریک دی ،جس سے یہ نظام ان اینٹی جینز پر حملہ آور ہوکر ان کی شکل اپنے میموری میں محفوظ کرلیتا ہے اور جونہی اصل وائرس کے مقابل آتا ہے اسے زیر کرنے میں دیر نہیں کرتا۔

ڈی این اے بیسڈ ویکسینز پہلے تیار کئے جاچکے ہیں لیکن ایم آر این اے بیسڈ ویکسینز اس لحاظ سے مزید فائدہ مند ثابت ہوں گے کہ یہاں جسم میں موجود ڈی این اے کو چھیڑنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

یا یوں کہیں کہ بجائے ڈی این اے کو ایک نئی ترکیب بنا کر ایم آر این اے کے ذریعے آگے پہچانے کا کام دینے کے بجائے باہر سے براہ راست تیار کردہ ایم آر این اے کو وہی پیغامات اور ہدایات فراہم کردی گئیں جو وہ اصل میں ڈی این اے سے حاصل کرتا اور خلیئے تک لے کر جاتا ہے۔

یہ طر یقہ زیادہ محفوظ ثابت ہوا جس میں انسانی جسم کے اندرونی نظام کے ساتھ کم سے کم چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔اس بات سے دنیا میں پھیلے اس افواہ کی بھی تردید ہوجاتی ہے کہ اس ویکسین کے ذریعے انسانوں کے ڈی این اے میں اپنی مرضی کے مطابق ترامیم کی جا سکتی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔

ویکسین کا اہم جزو کیا ہے ؟

فائزر اور موڈرنا کی بنائی ہوئی اس ویکسین کا اہم جزو میسنجر آر این اے ہے جسے ایک ننھے سے بلبلے میں مقید کیا گیا ہے۔ یہ بلبلہ فیٹی ایسڈ سے تیار کردہ ہے جسے نینو پارٹیکل کہا جاتا ہے۔ یہ بلبلے اس محلول میں معلق ہوتے ہیں جو دراصل سلائن ہوتا ہے۔ یہ سلائن مریض کے جسم میں ایسے ہی داخل کیا جاتا ہے جو کسی بھی مریض کو کمزوری دور کرنے کی خاطر ڈرپ کے ذریعے عام طور پردیا جاتا ہے۔

اس ویکسین کی افادیت اور اس کا اثر کتنا طویل ہو سکتا ہے ابھی کمپنیاں اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ عالمی صحت کے ادارے ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ فی الحال چھ ماہ کا اثر بھی قابل قبول ہوگا، تاہم موڈرنا کے سی ای او کا کہنا ہے کہ یہ اثر کئی سال بھی رہ سکتا ہے۔

وبا میں مبتلا دنیا کے لیے اس وقت یہی بڑی خبر ہے کہ نئے ویکسین کا نتیجہ90 فی صد سے زیادہ ہے۔ خطرناک وبا سے خوفزدہ انسانیت کے لیے یہ کچھ دیر دم لینے کا وقت ہے، اگر یہ ویکسین چار سے چھ ماہ کے لیے بھی مؤثر رہتی ہے تو کم از کم اس وقت تک کے لیے جب تک مزید تحقیقات اور ترقیاتی کام جاری رہے اور لوگ خوف و ہراس کے ماحول سے باہر آ سکیں گے۔

جہاں تک اس طریقۂ علاج اور ویکسین کے میکنزم کا تعلق ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ اثر طویل المعیاد ہی ہوگا اور اس دوران ہونے والی مزید پیش رفت کورونا وائرس کی کسی بھی قسم کی واپسی اور دوبارہ سر اُٹھانے کے امکان کو یکسر نہیں تو بہت حد تک ختم کرچکی ہوگی۔

خوشی آئند بات یہ ہے کہ اس دوران پاکستان میں ڈاؤ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر شوکت علی اور ان کی ٹیم بھی صحت یاب ہوجانے والے مریضوں سے حاصل کئے گئے پلازمہ کی مدد سے ویکسین کی تیاری کا کام کر رہی ہے۔

نیز چینی فارماسیوٹیکل کمپنی کے اشتراک سے بننے والی ویکسین بھی تب تک کلینیکل ٹرائلز سے آگے بڑھ کر ہیلتھ ریگولیٹرز کی منظوری حاصل کر چکی ہوگی۔

ان تمام اقدام کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کرنا بے جا نہ ہوگا کہ سال 2021ءکے اوائل میں دنیا کووِیڈ19 کے خوف سے کچھ نہ کچھ حد تک نجات حاصل کرلے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں