The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین : غریب ممالک کے ساتھ کیا ہوگا؟ عالمی تنظیم نے خبردار کردیا

جینیوا : کورونا ویکسین سے متعلق مہم چلانے والے اداروں کے اتحاد پیپلز ویکسین الائنز نے خبردار کیا ہے کہ امیر ممالک ویکسین ذخیرہ کر رہے ہیں اور غریب ممالک کی عوام اس سے مستفید نہیں ہو پائیں گے۔

پیپلز ویکسین الائنز نامی غیر سرکاری تنظیم نے کورونا وائرس ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی میں دوسروں کو بھی شریک کریں تاکہ ویکسین زیادہ سے زیادہ تعداد میں تیار کی جاسکے۔

تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے امیر ملکوں کی جانب سے کورونا ویکسین کے بڑے بڑے آرڈر دینے کی وجہ سے بیشتر غریب ممالک کو سال2021ء میں بھی ویکسین نہیں مل سکے گی۔

آکسفیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور گلوبل جسٹس ناؤ جیسی بین الاقوامی تنظیموں پر مشتمل پیپلز ویکسین الائنز کا کہنا ہے کہ درجنوں غریب ملکوں میں دس میں سے صرف ایک شخص کو ہی کورونا ویکسین مل سکے گی کیوں کہ امیر ملکوں نے ضرورت سے زیادہ ویکسین کا ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے، مثال کے طورپر کینیڈا نے اپنی مجموعی آبادی سے پانچ گنا زیادہ کورونا ویکسین کا آرڈر دیا ہے۔

الائنس کا کہنا ہے کہ دنیا کے امیر ممالک میں دنیا کی مجموعی آبادی کا صرف 14فیصد رہتی ہے لیکن یہ امیر ممالک کورونا ویکسین کے 54 فیصد کا آرڈر دے چکے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی بقیہ86 فیصد آبادی کے لیے صرف 47 فیصد ہی ویکسین رہ جاتی ہے۔

الائنس کے مطابق یہ امیر ممالک جتنی تعداد میں ویکسین کے آرڈر دے چکے ہیں ان میں سے ان ملکوں کی تمام آبادی کو تین مرتبہ سے زیادہ بار ٹیکے لگائے جاسکتے ہیں، الائنز کا کہنا ہے کہ اب تک سب سے مؤثر سمجھی جانے والی بیون ٹیک۔ فائزر اورموڈیرنا کی تقریباً تما م ویکسین امیر ممالک خرید چکے ہیں۔

الائنز نے اس کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا نے اپنی ضرورت سے پانچ گنا زیادہ ویکسین کاآرڈر دیا ہے۔ یورپی یونین، امریکا، برطانیہ، جاپان، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، مکاو، نیوزی لینڈ، اسرائیل اور کویت بھی ویکسین کے کافی زیادہ آرڈر دے چکے ہیں۔

پیپلز ویکسین الائنز کی مشیر موگا کمل نے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسے ملکوں کے مابین زیادہ سے زیادہ ویکسین جمع کرنے کی جنگ نہیں بننا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں