The news is by your side.

Advertisement

چالیس محکموں کی تحقیقات کی منظوری، 31ملازمین کی گرفتاری کا حکم

کراچی : چیف سیکریٹری سندھ کی صدارت اینٹی کرپشن ون کے اجلاس میں چالیس مختلف محکموں کی تحقیقات کی منظوری دیدی ہے جبکہ سات مقدمات میں ایف آئی آر درج کرکے اکتیس سرکاری افسران اور ملازمین کو گرفتار کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

اجلاس میں چیئرمین اینٹی کرپشن سید ممتاز شاہ نے چار محکموں محکمہ بلدیات،آبپاشی، بورڈ آف روینیو اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے مقدمات پیش کئے جس میں سولہ اوپن انکوائریز کے احکامات دیئے گئے جس میں بورڈ آف روینیو کے پانچ مقدمات شامل ہیں۔

سب سے اہم منصوبہ سندھ یونیورسٹی کی پانچ ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ شامل ہے اسی طرح محکمہ بلدیات کے آٹھ ، محکمہ آبپاشی کے تین اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ایک کیس شامل ہیں۔

جن افسران کے خلاف کاروائی کی ہدایت کی گئی ہے ان میں کے ایم سی کے اختر شیخ، محکمہ بلدیات کے عبدالقوی خان،سابق ڈپٹی کمشنر جامشورو آیو خان مری،ڈی جی حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی،سابقہ تعلقہ ناظم وارہ منظور مارفانی،سابق ٹی ایم او منظور شیخ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے انجینئر زاہد شیخ و دیگر شامل ہیں۔

ان لوگوں پر سرکاری خزانہ میں کروڑوں روپے کی خرد برد کا الزام ہے محکمہ بلدیات میں تین سو بانوے غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات اور ملوث عناصر کیخلاف بھی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں