انٹر بورڈ کراچی پر اینٹی کرپشن کا چھاپہ ، ملازمین نے ہڑتال کردی -
The news is by your side.

Advertisement

انٹر بورڈ کراچی پر اینٹی کرپشن کا چھاپہ ، ملازمین نے ہڑتال کردی

کراچی: اینٹی کرپشن یونٹ نے انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس میں چھاپے کے دوران اہم ریکارڈ ضبط کر کے ایک ملازم کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے انٹر بورڈ آف کراچی میں کارروائی کی گئی جو 48 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہی اس دوران داخلی و خارجی راستوں کو بند کرتے ہوئے بورڈ آفس میں موجود ملازمین کو بھی گھر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

چیئرمین اینٹی کرپشن غلام قادر تھیبو نے کارروائی کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’انٹر کے نتائج میں گھپلوں کے ثبوت موصول ہونے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی، اس دوران 94 سے زائد گھپلوں کے کیسز سامنے آئے ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’’تمام شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں اور انٹر بورڈ سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس سے تفتیش کی جائے گی اور ملزم کی نشاندہی پر بلاامتیاز کارروائی کی جائےگی‘‘۔

دوسری جانب چیئرمین انٹر بورڈ اختر غوری نے نتائج میں ردوبدل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اینٹی کرپشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے اچانک دورہ کیا تو ہم نے تعاون کیا، اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’’امتحانی کاپیاں سنیئراساتذہ چیک کرتے ہیں جنہیں کوڈ اور ڈی کوڈ کیا جاتا ہے‘‘۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ’’کاپیوں کی جانچ پڑتال میں چار مرحلے ہوتے ہیں جب کہ آخری مرحلے میں بھی کاپیوں کو کراس چیک کیا جاتا ہے جس سے نتائج میں تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے، اخترغوری نے گرفتاری کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈپٹی کنٹرولر کے اسسٹنٹ عادل کو گرفتار کیا گیا ہے جو بورڈ کا مستقل ملازم نہیں ہے‘‘۔

سپلا کی جانب سے اینٹی کرپشن کی کارروائی کے خلاف احتجاجاً ہڑتال کا اعلان کردیا گیا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کرکے اور ادارے میں بے جا مداخلت بند کی جائے‘‘۔

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز  ایسوسی ایشن (سپلا)کے ملازمین نے اینٹی کرپشن یونٹ پر الزام عائد کیا ہے کہ ’’کارروائی کے دوران کمپیوٹر سرور خراب کردیا گیا جس کے باعث  پری میڈیکل کے نتائج اب وقت پر تیار نہیں کیے جاسکتے اور اس کے اجرا میں ایک ماہ سے زائد وقت لگ سکتا ہے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں