The news is by your side.

Advertisement

بھارت: توہین آمین بیانات کے خلاف آواز اٹھانے پر مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلنے لگے

نئی دہلی: مودی کے بھارت میں توہین آمیز بیانات کے خلاف آواز اٹھانے والے مسلمانوں کے گھر مسمار ہونے لگے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے متعدد شہروں میں مسلمانوں کے مکانات اور کاروباری عمارات گرائے جانے کے خلاف احتجاج پھوٹ پڑے ہیں، حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ان اقدامات کو ’بلڈوزر جسٹس‘ قرار دے دیا گیا ہے، جس کا مقصد مسلمان اقلیت کے ایکٹویسٹس کو سزا دینا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اتوار کو حکومتی اہل کاروں نے بھارتی ریاست اُتر پردیشں میں جاوید احمد نامی مسلمان کا گھر بلڈورز سے مسمار کر دیا تھا، ان پر الزام تھا کہ ان کا مسلمانوں کے اس احتجاج سے تعلق ہے جو جمعے کو پُر تشدد مظاہرے میں بدل گیا تھا، ہفتے کے روز انھیں گرفتار بھی کر لیا گیا۔

خیال رہے کہ بی جے پی کے دو ترجمانوں کی جانب سے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرے کے بعد بھارتی مسلمانوں میں شدید اشتعال پایا جا رہا ہے، پارٹی نے ایک کو برخاست اور دوسرے کی رکنیت معطل کر دی تھی، لیکن حکومتی سطح پر کوئی پالیسی بیان سامنے نہیں آیا، جس پر احتجاج جاری ہے، گزشتہ ہفتے اُتر پردیش کے دو دیگر شہروں میں بھی احتجاج کرنے والے مظاہرین کی املاک کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کیا گیا تھا، جب کہ اس سے قبل اپریل میں بھارتی دارالحکومت دہلی میں مسلمانوں کی دکانیں تباہ کر دی گئی تھیں۔

نریندر مودی کے سوانح نگار نیلجان مکھوپادہائے نے مسلمانوں کی املاک کو مسمار کرنا آئینی روایات اور اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، بھارتی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں اور وکلا نے چیف جسٹس کو ان املاک کی مسماری کا نوٹس لینے کے لیے خط لکھ کر کہا کہ یہ ایک قسم کی ماورائے قانون اجتماعی سزا ہے، اتر پردیش کی حکومت مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال کے ذریعے اختلافی آوازوں کو دبا رہی ہے۔

یاد رہے کہ جمعے کو رانچی میں توہین آمیز ریمارکس پر احتجاج کرنے والے مظاہرین میں سے 2 افراد پولیس سے جھڑپوں کے دوران جاں بحق ہوگئے تھے، دوسری جانب اب تک درجنوں مسلمان مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں