The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں سال2018 کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز

کراچی: سال2018کی پہلی انسدادپولیومہم کا آغاز ہوگیا ، 22لاکھ سے زائدبچوں کو پولیو ویکسن پلائی جائیں گی،چار روزہ مہم 26جنوری تک جاری رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں سال2018کی پہلی انسدادپولیومہم کا آغاز ہوگیا کراچی کے 6ڈسٹرکٹ اور18ٹاؤن میں بیک وقت مہم شروع کی جارہی ہے، مہم میں 24لاکھ بچوں کو پولیوکے قطرےپلانے کاہدف رکھا گیا ہے۔

سندھ بھر میں9ہزارانسداد پولیو مہم کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی پر 5ہزار پولیس، رینجرز اہلکار تعینات ہونگے۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں چار روزہ مہم 26جنوری تک جاری رہے گی۔

مہم کے دوران5سال سے کم عمر 2.4ملین پچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

ویکسین سے انکار کرنیوالے والدین کو قائل کرنیکی کوشش کر رہے ہیں، کمشنر کراچی

کمشنرکراچی کا کہنا ہے کہ 22لاکھ سےزائدبچوں کوپولیوویکسن پلائی جائیں گی، ویکسین سے انکار کرنیوالے والدین کو قائل کرنیکی کوشش کر رہے ہیں، کوشش ہے شوبز اور اسٹار کھلاڑیوں سے بھی مددلیں، جن میں شاہدآفریدی،یونس خان کےنام زیر غور ہیں، لوگ ان شخصیات سے متاثر ہوتی ہیں اور اسی کو بہتر طریقہ سمجھتے ہیں۔

خیال رہے کہ 2017گذشتہ سال پولیو کی تاریخ کے سب سے کم کیس رپورٹ ہوئے، ملک بھر سے پولیو کے8کیس رپورٹ ہوئے، کراچی میں پولیو سے متاثرہ 2کیسز سامنے آئے۔

سال 2014 میں ملک بھر میں306کیس رپورٹ ہوئے جبکہ صوبہ سندھ میں 30کیسز سامنے آئے۔

سال 2015 میں ملک بھر میں54اور سندھ میں 12کیس رپورٹ ہوئے جبکہ 2016 میں ملک بھر کے پولیو کیسز کی تعداد 20جبکہ سندھ میں8پولیو کیسز ہوئے۔

کوآرڈینیٹر ای او سی فیاض جتوئی کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو مہم میں خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں، مزید کام کرکے کارکردگی کو بہتر بنایا جارہا ہے، انسداد پولیو مہم کے ورکرز فلاح انسانیت کے خاطر جانفشانی سے کام کریں۔

فیاض جتوئی نے مزید کہا کہ والدین اور سرپرست بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لئے پولیو ڈراپ ضرور پلوائیں، 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوانا ہمارا قومی واخلاقی فریضہ ہے، صحت مند پاکستان کے مشن میں ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں