The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کی وجہ سے تعطل کا شکار انسداد پولیو مہم دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت انسداد پولیو پر صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں کرونا وائرس کی وجہ سے تعطل کا شکار انسداد پولیو مہم پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت انسداد پولیو پر صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیر صحت، وزیر بلدیات، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، کمشنر، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری تعلیم اور سیکریٹری بلدیات شریک ہوئے۔

اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں رواں سال 58 پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے، سندھ میں 20، خیبر پختونخواہ میں 21، بلوچستان میں 14 اور پنجاب میں 3 کیسز ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب بھی کراچی کے 8 ٹاؤنز میں پولیو کے ماحولیاتی نمونے مثبت ہیں، ان علاقوں میں سہراب گوٹھ، مچھر کالونی، خمیسو گوٹھ، صدر ٹاؤن، چکورہ نالہ، گلستان ٹاؤن کا راشد منہاس، بلدیہ میں محمد خان کالونی، بن قاسم ٹاؤن کا بختاور گوٹھ، سائٹ میں اورنگی نالہ،کورنگی ٹاؤن میں کورنگی نالہ، لیاقت آباد ٹاؤن میں حاجی مرید گوٹھ اور صدر ٹاؤن میں ہجرت کالونی شامل ہیں۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کرونا وائرس کے باعث پولیو مہم مارچ سے رکی ہوئی ہے، ٹرانزٹ پوائنٹس پر جو پولیو ویکسین دی جاتی تھی وہ بھی رک گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ماہ 7 لاکھ بچوں کو ویکسین دی جاتی تھی وہ بھی رک گئی ہے، جولائی سے پولیو ویکسین کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں، ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائن کے مطابق پولیو ورکرز کو کٹ پہنائی جائیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 5 موبائل ویکسی نیشن گاڑیاں کراچی کے خطرناک علاقوں میں رکھی گئیں۔

اجلاس میں کراچی کی 154 یو سیز میں اسپیشل موبائل ٹیموں سے پولیو ویکسین کرنے اور 34 یونین کونسلوں میں کمیونٹی بیسڈ ویکسی نیشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو پولیو ٹیموں کو ضروری سیکیورٹی دینے کی ہدایت کی، ضلع جنوبی اور ضلع ملیر میں ایمرجنسی رسپانس یونٹ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے پولیو ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ورکرز نے کرونا وائرس میں بھی بہت سپورٹ کیا، ہمیں مل کر پولیو سے جان چھڑانی ہے، یہ ہماری نیشنل اور انٹرنیشنل کمٹمنٹ ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں