The news is by your side.

Advertisement

جرمنی میں’یہودی ٹوپی‘ پہنا شخص تشدد کا نشانہ بن گیا

برلن : جرمنی میں ایک عرب شخص نے دو شہریوں کو تشدد کو نشانہ بنا ڈالا، سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ممکن ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سماجی رابطے کے ویب سائیٹ فیس بک پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک عربی شخص برلن میں ایک شہری کو نفرت آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئےبیلٹ سے تشدد کا نشانہ بنارہا ہے۔

 سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جرمنی کے علاقے پرنز لویا برگ میں عرب حملہ آور کپّہ(یہودی ٹوپی) پہنے ہوئے ایک شخص پر بیلٹ سے تشدد کررہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرہ افراد میں سے ایڈم نامی 21 سالہ اسرائیلی شہری کا کہنا تھا کہ ’حملہ آور نے عربی میں ’یہودی‘ چیختے ہوئے تشدد شروع کردیا تھا۔ اس موقع پر  قریب موجود ایک شخص نے مجھے بچایا اورحملہ آور کو مجھ سے دور کیا۔

اسرائیلی شہری ایڈم کا کا کہنا تھا کہ ’واقعے کے بعد میں اس عربی شخص کا پیچھا کررہا تھا کہ اچانک اس نے شیشے کی بوتل میری جانب پھینکی جس کے بعد میں نے اس کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا‘۔

متاثرہ اسرائیلی کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس حملے پر بہت حیرانگی ہوئی ہے اور میں ابھی تک صدمے میں ہوں، یہ واقعہ میرے گھر کے بالکل سامنے پیش آیا ہے۔

متاثرہ اسرائیلی کا کہنا تھا کہ ’حملہ کرنے والے شخص کے ساتھ دو لوگ اور تھے جنہوں نے ہہلے میری بے عزتی کی اور غصّے میں رکنے کے لیے کہا‘۔

اسرائیلی شہری کا مزید کہنا تھا کہ ’ان میں سے ایک شخص بھاگتا ہوا میری جانب بڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ واقعے کی ویڈیو بنانی چاہیے کہ  پولیس کی مدد کے بغیر میں ان لوگوں سے نمٹنے سے قاصر تھا‘۔

مذکورہ ویڈیو کو یہودیوں کے گروپ ’یہودی فورم برائے ڈیموکریسی اور یہودی مخالفین کی مخالفت‘ نے سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ حملہ ہرگز ناقابل برداشت ہے‘۔

یہودی ڈیموکریسی فورم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ اپنے دوستوں اور جاننے والوں سے کہتا ہوں کہ کپّہ پہن کر اپنی شناخت یہاں ظاہر نہیں کیا کرو‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس حادثے کے بعد سے اپنا مؤقف بدل دیا ہے ، اب ہم اپنے حق کے لیے لڑیں گے اور عوام میں نظر آئیں گے‘۔

دوسری جانب متاثرہ شخص نے جرمن میڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ وہ یہودی نہیں ہے تاہم وہ اسرائیل میں مقیم ایک عرب گھرانے میں پلا بڑھا ہے۔

یاد رہے کہ ہٹلر کے دور میں یہودیوں کی کثیر تعداد جرمنی چھوڑ گئی تھی اور سنہ 1989 سے پہلے محض 30 ہزار کی تعداد میں یہودی جرمنی میں آباد تھے، تاہم  دیوارِ برلن  گرنے کےبعد سے جرمنی میں یہودیوں کی آبادی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں زیادہ تر روس سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں، اور ان کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں