The news is by your side.

Advertisement

کورونا کی تشخیص، امریکا میں آئندہ ہفتے سے اینٹی باڈی ٹیسٹ شروع ہونے کی تصدیق

واشنگٹن : کورونا پر وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کے اہم رکن ڈاکٹرانتھونی فاوچی نے آئندہ ہفتےسے اینٹی باڈی ٹیسٹ شروع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد بڑے پیمانے پر ٹیسٹ شروع کر دیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں کوروناکی تشخیص کیلئے اینٹی باڈی ٹیسٹ کی منظوری دے دی گئی، کورونا پر وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کے اہم رکن ڈاکٹرانتھونی فاؤچی نے آئندہ ہفتے سے اینٹی باڈی ٹیسٹ شروع کرنے کی تصدیق کردی۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویومیں ڈاکٹر فاؤچی نے بتایا بہت جلد بڑے پیمانے پر ٹیسٹ شروع کر دیے جائیں گے۔

کوروناوائرس ٹاسک فورس کےمطابق بیس لاکھ افراد کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے، ابھی بھی بہت سے ایسے افراد جن کا ٹیسٹ ہونا باقی ہے، جن میں ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں، اس صورت حال میں ایک زیادہ قابل بھروسہ ٹیسٹ کی اہمیت زیادہ ہوگئی ہے اور یہ اینٹی باڈی ٹیسٹ ہے۔

ڈاکٹرفاوچی کاکہناہےیہ ٹیسٹ لگ بھگ ایک ہفتہ میں ملناشروع ہوجائے گا، دنیا بھر کی حکومتی ہیلتھ ایجنسسز اس ٹیسٹ کے حصول کیلئے کوشاں ہیں کیوںکہ ان ٹیسٹ کی مدد سےلوگ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف آسکتےہیں۔

خیال رہے اینٹی باڈ ی ٹیسٹ زیادہ واضع ٹیسٹ ہے، چندہی وجوہات ہوتی ہیں جن کے باعث کسی کےخون میں اینٹی باڈیزپائی جاتی ہیں یا تو کسی دوسرے انسان کی اینٹی باڈیز آپ کےجسم میں داخل کی گئی ہیں یاآپ کو ویکسین دی گئی ہے یا آپ وائرس کا شکارہوچکےہیں، اس صورت میں اینٹی باڈی ٹیسٹ انتہائی اہم ثابت ہوتاہے۔

اینٹی باڈی ٹیسٹ کیلئے خون کا نمونہ درکار ہوتا ہے، فیصلہ کن ہونےکےعلاوہ اینٹی باڈی ٹیسٹ نگرانی کیلئے بھی بہترطرح سےاستعمال ہوسکتا ہے، میامی اورکیلی فورنیا میں اس ٹیسٹ کا استعمال شروع بھی ہوچکا ہے۔

سی ڈی سی کاکہناہےکہ اس ٹیسٹ کو مائلڈ انفیکشن کا شکار ہونے والے افراد کی تشخیص اور وائرس کے شکار افراد کو الگ کرنے میں استعمال کیا گیا،  اس ٹیسٹ کو جلد مارکیٹ میں لانے کیلئے ایف ڈی اے نے ریگیولیٹری اسٹینڈرز ک وکم کیا، جس کی وجہ سےمارکیٹ میں ایسےٹیسٹ آئے جن کاریزلٹ قابل بھروسہ نہیں تھے۔

خیال رہے  امریکاکوروناوائرس کےشکنجےمیں 23ہزار644 افراد انتقال کرگئے جبکہ متاثرین کی تعداد5لاکھ 87 ہزارہوگئی اور 36ہزار افراد صحتیاب ہوئے، صرف نیویارک میں کوروناوائرس سے 10 ہزار سےزائدافردانتقال کرچکےہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں