The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوا کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے مختلف دوائیں استعمال کی جارہی ہیں اور ریمڈسویئر بھی ان میں سے ایک ہے، حال ہی میں ایک تحقیق سے علم ہوا کہ یہ دوا پھیپھڑوں کو کرونا وائرس کے باعث ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھتی ہے۔

جلیئڈ کمپنی کی تیار کردہ دوا ریمڈسویئر کو امریکا، بھارت اور جنوبی کوریا میں ایمرجنسی میں تشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں پر استعمال کے لیے منظور کیا جاچکا ہے، دیگر ممالک میں بھی اس دوا کو مختلف شرائط کے تحت استعمال کیا جارہا ہے۔

حال ہی میں میڈیکل جرنل نیچر میں شائع ایک تحقیق میں اس دوا کے حیران کن اثرات کی نشاندہی کی گئی۔

اس تحقیق کے لیے 12 بندروں کو کرونا وائرس سے متاثر کیا گیا اور ان میں سے نصف کو یہ دوا دی گئی، ماہرین نے دیکھا کہ جن بندروں کو یہ دوا استعمال کروائی گئی ان میں پھیپھڑوں کو (کرونا وائرس سے) ہونے والے نقصان کی شرح کم تھی۔

اس دوا نے بندروں کو سانس کی بیماری سے بھی محفوظ رکھا۔

اس دوا کے انسانوں پر اثرات کی فی الحال آزمائش کی جارہی ہے تاہم ابتدائی جائزے میں دیکھا گیا کہ اس دوا کی بدولت کرونا وائرس کے مریض جلد صحتیاب ہوگئے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں اس دوا کو تیار کرنے والی کمپنی جلیئڈ نے کہا ہے کہ وہ اس دوا کی ایک بڑی مقدار عطیہ کریں گے جس سے کم از کم 1 لاکھ 40 ہزار مریضوں کا علاج ہو سکے گا۔

تائیوان، جاپان اور برطانیہ میں اس دوا کی منظوری دے دی گئی ہے اور کرونا وائرس کے مریضوں کو اس کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں