The news is by your side.

Advertisement

انٹونیو ویٹورینو انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے سربراہ منتخب

جینوا : اقوام متحدہ کے ایجنسی برائے پناہ گزین کے ڈائریکٹر جنرل کے انتخابات میں پرتگالی امیدوار اینٹونیو ویٹورینو نے امریکی امیدوار کو بدترین شکست سے دوچار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی تارکین وطن کی ایجنسی کے نئے سربراہ کو منتخب کرنے کےلیے گذشتہ روز جینوا میں ہونے والے الیکشن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’ڈائریکٹر جنرل آف انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن‘ کے عہدے کے لیے نامزد امیدوار کو نامزد امیدوار کو بد ترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکا کو اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے سب سے بڑے عہدے سے محروم ہونا پڑا ہے، پہلی مرتبہ سنہ 1951 میں امریکی امیدوار کو الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل برئے پناہ گزین ایجنسی کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں امریکی امیدوار کین آئیزکس ناکام اور پرتگال کی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما اور یورپی یونین کے سابق کمشنر اینٹونیو ویٹورینو ووٹوں کی اکثریت سے ڈی جی منتخب ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ انٹونیو ویٹورینو انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے دوسرے ڈائریکٹر جنرل ہیں جن کا تعلق امریکا سے نہیں ہے۔ ڈی جی کے انتخابات میں پناہ گزین ایجنسی کی سابق ڈپٹی ڈی جی لورا تھامسن دوسرے نمبر پر رہی جنہوں نے پرتگالی سیاست دان سے سخت مقابلہ کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پناہ گزین ایجنسی کے انتخابات میں امریکی امیدوار کے شکست کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی اداروں پر کڑی تنقید اور گذشہ ماہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نکلنے اور ورلڈ ٹریڈ آگنائزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور صدارات میں پناہ گزین ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے لیے نامزد امیدوار کیتھی ہارپر نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کیا ہے کہ ’ایک مرتبہ پھر امریکا کی طاقت، اقتدار اور وقار کو نقصان پہنچا ہے‘۔

کیتھی ہارپر کا کہنا تھا کہ ’کین آئیزکس اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی متعصابانہ پالیسی کے باعث انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے ہیں، ڈی جی برائے پناہ گزین ایجنسی کا عہدہ امریکا کا تھا، جو ٹرمپ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گیا‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں