پیر, جولائی 13, 2026
اشتہار

کیا چیونٹیاں بھی انسانوں کی طرح بیماری میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتی ہیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ چیونٹیاں بھی بیماری کی صورت میں بلکل انسانوں کی طرح سماجی فاصلے جیسی احتیاطی تدابیر اختیار کرتی ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جریدے سائنس میں شائع ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ (Lasius niger) یعنی سیاہ بڑی چیونٹیاں جو اکثر باغات میں پائی جاتی ہیں بیماری پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر اپنے بلوں کی بناوٹ کو تبدیل کر لیتی ہیں تاکہ جراثیم نہ پھیل سکیں۔

رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی آف برسٹل کے لوک لیکی جو اس تحقیق کے اہم محقق ہیں نے کہا ہے کہ یہ چیونٹیاں مٹی کے درجہ حرارت اور ساخت کے مطابق اپنی کھدائی کا طریقہ بدلنے کے لیے کافی مشہور ہیں۔

چیونٹیاں چونکہ سماجی حشرات میں شامل ہیں، اور ان کے درمیان قریبی رابطہ بیماری کے پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے، اس لیے محققین نے اندازہ لگایا کہ ان کے زیرِ زمین بل اس خطرے سے نمٹنے کے لیے بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں تھری ڈی اسکیننگ مائیکرو سی ٹی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 180 چیونٹیوں کے دو گروپوں کا مطالعہ کیا گیا جنہیں مٹی سے بھرے کنٹینرز میں بل بنانے کے لیے رکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق 24 گھنٹے بعد، ہر کنٹینر میں 20 مزید چیونٹیاں شامل کی گئیں، جن میں سے ایک گروپ کو فنگس کے جراثیم کے سامنے رکھا گیا۔

سائنس دانوں نے اگلے چھ دنوں میں ہر بل کو بار بار اسکین کیا تاکہ اس کے تمام راستوں، کمروں اور داخلی راستوں کا تھری ڈی نقشہ تیار کیا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق نتائج سامنے آنے پر انکشاف ہوا کہ متاثرہ چیونٹیوں نے اپنے بلوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں، داخلی راستے اوسطاً 6 ملی میٹر زیادہ فاصلے پر بنائے، تاکہ چیونٹیوں کا ایک جگہ زیادہ جمع ہونا کم ہو۔

چیونٹیوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے لمبے اور مشکل راستے بنائے، اور مرکزی جگہوں سے دور کمروں کو تعمیر کیا، یہاں تک کہ انہوں نے متبادل سرنگیں بھی کھودیں تاکہ ایک دوسرے سے رابطے کو کم کیا جاسکے، اس سے ظاہر ہوا کہ بل کی یہ نئی ترتیب بیماری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔

سانپ اپنی کینچلی کب اور کیوں بدلتا ہے؟ دلچسپ ویڈیو رپورٹ

سائنسدانوں کے مطابق ان کے لیے سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ جب انہوں نے چیونٹیوں کے خود کو الگ رکھنے کے رویے کو ماڈل میں شامل کیا تو بیماری کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی ہو گئی خاص طور پر ان بلوں میں جو جراثیم سے متاثر ہوئے تھے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں