بھارتی معروف فلم ساز اور ہدایت کار انوراگ کشیپ نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی دستاویزات میں نام سامنے آنے کے بعد خاموشی توڑ دی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق انوراگ کشیپ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں ہے، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایپسٹین فائلز کی ایک ای میل میں بیجنگ میں منعقدہ ایک ورکشاپ کے ممکنہ شرکاء کی فہرست میں انوراگ کشیپ کا حوالہ دیا گیا تھا۔
اس ای میل میں ایک بالی ووڈ ڈائریکٹر کا ذکر تھا جسے بعض حلقوں نے انوراگ کشیپ سے جوڑنے کی کوشش کی، انوراگ کشیپ نے ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے زندگی میں کبھی بیجنگ کا سفر نہیں کیا۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی کسی ای میل یا تقریب سے واقف نہیں ہیں، ڈائریکٹر کے بقول انہیں پیشہ ورانہ بنیادوں پر بہت سے دعوت نامے موصول ہوتے ہیں جن کا وہ جواب تک نہیں دیتے۔ انہوں نے ان خبروں کو محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش اور کلک بیٹ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایپسٹین فائلز میں نام آنے کا مطلب لازمی طور پر کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونا نہیں ہے۔ ان دستاویزات میں دنیا کی کئی اہم شخصیات کے نام شامل ہیں جو محض رابطوں یا سفری تفصیلات پر مبنی ہیں۔
ایپسٹین جنسی جرائم میں سزا یافتہ تھا اور 2019ء میں حراست کے دوران ہلاک ہو گیا تھا، دستاویز میں ڈونلڈ ٹرمپ، اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور بل گیٹس سمیت دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


