دنیا کے عظیم ناول نگاروں کی فہرست میں دوستو وسکی کا نام بھی شامل ہے جس نے روسی سماج کی اپنی کہانیوں میں غیرمعمولی منظر کشی کی اور مختلف طبقات کے دکھ درد، المیوں اور تضادات کو بیان کیا۔ دوستو وسکی کے ناولوں اور تصورات کا عالمی فکشن کی روایت پر بھی گہرا اثر نظر آتا ہے۔
‘دلِ پُرخوں کی اک گلابی سے’ انور احسن صدیقی کی خود نوشت کا نام ہے۔ ترقی پسند نظریات کے حامل انور احسن صدیقی کو ادیب، شاعر، کالم نگار، مترجم اور بحیثیت صحافی بھی پہچانا جاتا تھا۔ ان کی خود نوشت سے ہم یہ پارہ نقل کررہے ہیں جو عظیم روسی ناول نگار کی مقبولیت سے متعلق ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
دوستو وسکی کے ذکر پر ایک واقعہ یاد آیا جو بہت برسوں کے بعد کی بات ہے۔ سوویت حکومت کے بعض انتہا پسند اور تنگ نظر عمائدین کے ایما پر ایک زمانے میں سوویت یونین میں دوستو وسکی کی کتابی کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ دوستو وسکی پر الزام یہ تھا کہ اس کی تحریریں سماج میں مایوسی، نا امیدی اور بد دلی پیدا کرتی ہیں۔
دراصل الزام لگانے والوں کا المیہ یہ تھا کہ وہ غیر معمولی اور اعصاب شکن حقیقت نگاری کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ دوستو وسکی نے تو اپنے دور کے پورے روسی سماج کو اپنی ذات کے اندر جذب کر لیا تھا اور وہ اپنی تحریروں میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کا اظہار کرتا رہتا تھا جو کہ ہر قسم کے تصنع اور ریا کاری سے پاک تھا۔ بہر حال ایک وقت وہ آیا جب اس حقیقت کا ادراک کر لیا گیا کہ دوستو وسکی کی کتابوں پر پابندی لگانا غلط تھا۔
جس واقعے کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ بہت بعد کا ہے۔ میرے ایک روسی دوست نے مجھے یہ بتایا کہ جب دوستو وسکی کی کتابوں پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا تو دوستو وسکی کی کلیات شائع کی گئی جو کئی جلدوں پر مشتمل تھی۔ جس دن یہ کلیات شائع ہو کر آنے والی تھی اس دن ماسکو میں کتابوں کی تمام دکانوں پر صبح سویرے سے ہی خریداروں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والی یہ کلیات جب ماسکو میں کتابوں کی دکانوں پر پہنچی تو شام تک کسی بھی دکان میں اس کا ایک نسخہ بھی موجود نہیں تھا۔ میرے روسی دوست نے بتایا کہ یہ تو ماسکو کا حال تھا اور دوسرے شہروں میں بھی صورت حال اس سے زیادہ مختلف نہیں تھی۔


