اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

"دورِ آمریت کی بکاؤ تحریریں آج تاریخ کے کسی کوڑا دان میں موجود نہیں!”

اشتہار

حیرت انگیز

۱۹۵۸ء میں میری پہلی اور آخری ملاقات مشہورِ عالم کمیونسٹ رہ نما دادا فیروز دین منصور سے ہوئی۔ اس وقت تک ملک میں مارشل لا نافذ نہیں ہوا تھا۔ دادا فیروز دین منصور کچھ دنوں کے لیے کراچی آئے تھے اور انھوں نے خاص طور سے یہاں کے نوجوان ترقی پسندوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔

وہ کراچی کے نوجوانوں سے مل کر بہت خوش ہوئے تھے اور انھوں نے بڑی امیدوں کا اظہار کیا تھا۔ لیکن ان کے کراچی سے جانے کے کچھ ہی دنوں کے بعد ملک میں مارشل لا نافذ ہو گیا تھا۔

تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے ساتھ ساتھ سامراجی قوتوں کی عالمی حکمت عملی میں بھی متواتر تبدیلیاں آرہی تھیں۔ ساری دنیا میں مزدور طبقے کی جدوجہد کو کمزور کرنا اور عوامی اور جمہوری قوتوں کا راستہ روکنا سامراج کی بقا کے لیے بنیادی شرط تھی۔ چناں چہ ۱۹۵۰ء کے عشرے کے اواخر میں امریکہ نے یہ نئی حکمت عملی اپنائی کہ دنیا بھر میں بائیں بازو کی قوتوں کو صرف جبر و تشدد کا ہی نشانہ نہ بنایا جائے بلکہ جہاں جہاں ممکن ہو انھیں خریدنے کی بھی کوشش کی جائے تاکہ عوام کے درمیان ان کے اثر و نفوذ میں از خود کمی واقع ہو۔

اس نئی امریکی پالیسی کے تحت ایوب حکومت نے پاکستان کے ادبیوں، شاعروں اور دانش وروں کی ایک کل پاکستان انجمن بنوانے کا فیصلہ کیا تاکہ دانش ور حلقوں میں مارشل لا حکومت کی مخالفت کو کم کیا جاسکے اور دانش وروں کی ایک تعداد کو حکومت کا حامی بنایا جاسکے۔ مشہور بیورو کریٹ قدرت اللہ شہاب کو حکومت کی طرف سے یہ فریضہ تفویض کیا گیا اور انھوں نے اس پر عمل درآمد کے لیے رابطہ مہم شروع کر دی۔ بہت سے سرکاری ادیبوں کو ان کی ٹیم میں شامل کر دیا گیا اور ملک بھر کے ادبی حلقوں میں ادیبوں کی ایک انجمن کے بارے میں گفتگو ہونے لگی۔ اس تجویز کے سامنے آتے ہی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے ادیبوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس کی حمایت پر کمربستہ ہوگئی۔

کراچی میں ترقی پسندوں کے حلقوں میں اس تجویز کے سلسلے میں سخت شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ اس کے بارے میں مختلف سطحوں پر بڑی شد و مد کے ساتھ بحثیں ہوتی تھیں اور متضاد آرا سامنے آتی تھیں۔ سینئر لیڈروں میں کئی ایسے تھے جو اس مجوزہ انجمن کے قیام کے سخت مخالف تھے اور جن کا استدلال یہ تھا کہ یہ حکومت کی جانب سے ادیبوں کو خریدنے کی اور انھیں کرپٹ کرنے کی ایک سازش ہے جس سے ہمیں دور رہنا چاہیے۔ اس خیال کے سب سے بڑے حامی مرحوم حسن ناصر تھے۔ ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگ بھی اسی خیال کے حامی تھے۔ لیکن اکثریت کی رائے یہ تھی کہ اگر ترقی پسند ادیبوں نے اس انجمن کے قیام میں حصہ نہیں لیا اور اس کا بائیکاٹ کیا تو وہ الگ تھلگ ہو جائیں گے اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں ملک کے دوسرے صوبوں اور علاقوں کی ترقی پسند تنظیموں اور گروہوں سے بھی رابطہ قائم کیا گیا جن میں مشرقی پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی بھی شامل تھی۔

حکومت کی طرف سے یہ تجویز پیش کرنے والوں کا اصرار تھا کہ یہ مجوزہ انجمن، کوئی نظریاتی انجمن نہیں ہوگی اور اس کا تعلق کسی بھی ادبی یا سیاسی مسلک سے نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ ادیبوں کی ایک قسم کی ٹریڈ یونین ہوگی جس کا اصل کام یہ ہوگا کہ وہ ادیبوں کے حقوق کا تحفظ کرے، ان کی کتابوں کی اشاعت میں تعاون کرے، غریب اور ضرورت مند ادیبوں کی مدد کرے، ملک کی تمام زبانوں کے ادب کو فروغ دینے کا بندوبست کرے اور آزادی تحریر و تقریر کا تحفظ کرے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام باتیں ایسی تھیں جن میں اختلافِ رائے کی بہت کم گنجائش تھی۔ چناں چہ ملک بھر کے ترقی پسند ادیبوں نے اس انجمن میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ وہ اپنی فعالیت اور نیک نیتی کی بنا پر اس انجمن کے ذریعے ادیبوں کو فائدہ پہنچا سکیں گے۔

ڈھاکہ سے کراچی تک ادیبوں کی ٹریڈ یونین کے قیام کے لیے ادیبوں میں اتفاق ہو گیا اور ابتدائی کام بڑی تیزی کے ساتھ انجام دیا جانے لگا۔ حکومت نے اس مد میں کافی رقم مہیا کر دی تھی۔ قدرت اللہ شہاب، جمیل الدین عالی، عباس احمد عباسی اور متعدد سرکاری ملازمین قدرت اللہ شہاب کی سربراہی میں بڑی سرگرمی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

۲۹ جنوری ۱۹۵۹ء کو کراچی کے کے جی اے ہال میں ( جس کا وجود اب ختم ہو چکا ہے ) دو سو بارہ ادیبوں کا کنونشن منعقد ہوا۔ یہ ملک بھر سے آئے ہوئے ادیب تھے جن میں بھاری تعداد بنگالی ادیبوں کی بھی شامل تھی۔ یہ کنونشن مسلسل تین دن تک جاری رہا۔ لوح و قلم اس زمانے میں طلبا کی ایک مضبوط ادبی تحریک کی حیثیت رکھتا تھا جس کے پاس فعال لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک بڑی ٹیم موجود تھی۔ مجھ سے کہا گیا کہ میں رضا کار لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک ٹیم تیار کروں جو اس سہ روز کنونشن کے انعقاد میں انتظامیہ کی مدد کرے۔ چناں چہ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک بڑی ٹیم تشکیل دے دی جو لوح و قلم کے وابستگان پر مشتمل تھی۔ اس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے۔ فی الحقیقت اس کنونشن کو کامیاب بنانے میں ان طلبا و طالبات کا بڑا ہاتھ تھا۔ یہ لوگ دن دن بھر ہال میں موجود رہتے تھے، باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کی مدد کرتے تھے اور سارا انتظام سنبھالتے تھے۔ یہ سب کے سب ادب سے دل چسپی رکھنے والے لوگ تھے۔ اس کنونشن میں ادبیوں کی ایک انجمن کا قیام عمل میں آیا جس کا نام "آل پاکستان رائٹرز گلڈ” تھا۔ کنونشن میں شریک دو سو بارہ ادیب اس کے اراکین اساسی (فاؤنڈر ممبرز) قرار پائے۔ "لوح و قلم” گروپ سے تین نوجوان لکھنے والوں کو اراکین اساسی کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ ان میں میرے علاوہ علی انور حیدری اور ڈاکٹر شمیم ارشاد ( اب ڈاکٹر شمیم زین الدین) شامل تھے۔ کنونشن کے پہلے اجلاس کی صدارت بنگالی زبان کے معروف شاعر جسیم الدین نے کی تھی۔ اس اجلاس میں خطبۂ استقبالیہ بھی پیش کیا گیا تھا جو اردو کے معروف ادیب جناب شاہد احمد دہلوی نے پیش کیا تھا۔ افتتاحی تقریر مرزا محمد سعید نے کی تھی۔ کنونشن کا آخری اجلاس جنوری ۱۹۵۹ء کو منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹر عبدالحق مرحوم نے کی تھی اور صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خاں نے اس اجلاس میں ایک عام مہمان کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ اس آخری اجلاس میں چونکہ جنرل محمد ایوب خاں کو شرکت کرنی تھی اس لیے اس کی صدارت کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جانا تھا۔ چناں چہ اس مقصد کے لیے ڈاکٹر عبد الحق جیسے قابل احترام بزرگ کا انتخاب کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالحق اسٹیج پر بیٹھے تھے اور صدر ایوب حاضرین کی سب سے اگلی صف میں ایک عام مہمان کے طور پر بیٹھے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ صدر ایوب جب تقریر کرنے کے لیے اسٹیج پر آئے تو انھوں نے ڈاکٹر عبدالحق کے پاس جا کر ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔

کراچی کے ادبی حلقوں میں تین دن تک اس کنونشن کی زبردست گہما گہمی رہی۔ بہت سے لوگوں کو اس بات کا شکوہ تھا کہ انھیں کنونشن میں مندوب نہیں بنایا گیا۔ انھیں یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی کہ اب گلڈ کی باقاعدہ ممبر شپ شروع ہوگی، اور کوئی بھی ادیب گلڈ کا ممبر بن سکتا ہے، حکومت کی طرف سے گلڈ کو بھاری فنڈ ملا تھا۔ صدر میں واقع ہوٹل ایکسیلیر میں گلڈ کا دفتر قائم کیا گیا جس کے روزانہ کے وسیع اخراجات تھے۔ اس ہوٹل کا اب کوئی وجود نہیں ہے۔ ایک زمانے میں یہ کراچی کے ادیبوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ گلڈ نے "ہم قلم” کے نام سے ایک ماہ نامہ بھی جاری کیا تھا جس کے کچھ شمارے شائع ہوئے اور پھر یہ بند ہو گیا۔

گلڈ کی تشکیل کل پاکستان بنیادوں پر ہوئی تھی۔ اس کا منشور آخری اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا جس میں ادب کے فروغ اور ادبیوں کے حقوق کے لیے جد و جہد کو اس کے قیام کا اصل مقصد قرار دیا گیا تھا۔

جلد ہی پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی گلڈ کے دفاتر قائم ہو گئے۔ گلڈ کے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی۔ مرکزی حکومت کے علاوہ صوبائی حکومتیں بھی گلڈ کو فنڈز دے رہی تھیں۔ گلڈ کے قیام کے بعد سے بہت سے ادیبوں کو حکومت کے زیادہ قریب آنے کا اور حکومت کو ان کے درمیان اپنا دائرہ اثر بڑھانے کا موقع ملا۔

حکومت کی جانب سے ایک نئے ادارے بیورو آف نیشنل ری کنسٹرکشن ( ادارهٔ قومی تعمیرِ نو) کا قیام عمل میں آیا جس کے لیے بھاری رقم مختص کی گئی۔ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اور خاص طور سے سیاسی میدان میں، سرکاری پالیسیوں کی حمایت کو فروغ دیا جائے۔ اس ادارے کی جانب سے ایسی بے شمار کتابیں، پمفلٹ اور کتابچے وغیرہ شائع کیے گئے جن میں کسی نہ کسی عنوان سے سرکار کی مدح سرائی کی گئی تھی۔ ایسی بہت سی تحریریں فرضی ناموں سے شائع کی گئیں اور ان کے اصل لکھنے والوں کے ناموں کو پوشیدہ رکھا گیا۔ آنے والے دنوں میں بیورو آف نیشنل ری کنسٹرکشن کی جانب سے ایوب شاہی کے وضع کردہ بنیادی جمہوریتوں کے سیاسی نظام کی حمایت میں بے شمار تحریریں شائع کی گئیں اور ان کے خفیہ اور علانیہ لکھنے والوں کو خوب خوب نوازا گیا۔

آج وہ تمام بے وقعت اور بکاؤ تحریریں تاریخ کے کسی کوڑا گھر میں موجود نہیں ہیں، کیونکہ وقت کی سفاک اور بے رحم آندھیوں نے انھیں خاک کے حقیر ذروں میں تبدیل کر کے فضاؤں میں منتشر کر دیا ہے۔

(ترقی پسند نظریات کے حامل انور احسن صدیقی کو ادیب، شاعر، کالم نگار، مترجم اور بحیثیت صحافی بھی پہچانا جاتا ہے۔ یہ پارہ ان کی خود نوشت "دلِ پُرخوں کی اک گلابی سے” سے لیا گیا ہے اور پاکستان میں ترقی پسند اہل قلم اور بائیں بازو کی جماعتوں کے خلاف حکومت کے اقدامات اور جبر و تشدد کی داستان سناتا ہے)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں