جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

جب بلراج مین را نے ‘سات منزلہ بُت’ پر بے لاگ تبصرہ کیا!

اشتہار

حیرت انگیز

شخصیت اور فن کا معاملہ بعض اوقات گریز کا بھی ہوتا ہے اور ہم آہنگی کا بھی۔ ممکن ہے کچھ لوگ مین را کی بے باکی اور بغاوت کو پسند نہ کرتے ہوں لیکن انھیں مین را کی کہانیاں اچھی لگتی ہوں۔ بعض اوقات ایک اچھا اور بڑا افسانہ نگار اپنی بے باکی کی وجہ سے نظر انداز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ ادبی سماج ہماری مرضی کے مطابق قائم نہیں ہو سکتا۔

یہ ابتدائیہ اردو کے اہم افسانہ نگار اور معروف ادبی صحافی بلراج مین را سے متعلق ہے جس کے مصنّف سرورالہدیٰ ہیں۔ بلراج مین را ۱۵ جنوری کو چل بسے تھے۔ ان کا ادبی سفر کئی دہائیوں‌ پر محیط رہا اور پہلی کہانی ’’بھاگوتی‘‘ کے عنوان سے ۱۹۵۷ میں کراچی کے ادبی پرچے ساقی میں شائع ہوئی۔ ان کی دوسری کہانی ’’ہوس کی اولاد‘‘ لاہور سے نکلنے والے ادبی جریدے سویرا کا حصّہ بنی تھی۔ بلراج مین را برطانوی ہند کے مشہور شہر ہوشیار پور میں ۱۹۳۵ میں پیدا ہوئے تھے۔ زندگی کا بیشتر حصہ دلّی میں گزرا اور وہیں ابتدائی تعلیم سے لے کر ادبی سفر شروع کیا اور زندگی کی آخری سانس دلّی ہی ان کا مسکن رہی۔

یہ اقتباس بلراج مین را کی اپنے احباب کے لیے کشادہ دلی، فکر مندی اور احترام کو ظاہر کرتا ہے جسے سرور الہدیٰ نے اپنے مضمون میں شامل کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

” ۱۹۶۹ء میں غالب اکیڈمی میں انور عظیم کے افسانوی مجموعہ قصہ رات کا پر گفتگو کرنے کے لیے لوگ جمع ہوئے تھے۔ اس جلسے کی صدارت سجاد ظہیر صاحب نے فرمائی تھی۔ اس موقع پر انور عظیم کے احباب موجود تھے لیکن سب اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ انور عظیم کے افسانوی فن پر کوئی کچھ کہنے کو تیار نہیں تھا۔ مین را کو یہ بات اچھی نہیں لگی، وہ تھوڑی دیر کے لیے باہر آئے اور دوبارہ جلسہ گاہ پہونچے۔ اور کہا کہ مجھے کچھ کہنا ہے۔ مین را نے انور عظیم کی کتاب پر نشانات لگا رکھے تھے۔ ایک گھنٹہ مین را نے ان مطبوعہ کہانیوں پر روشنی ڈالی اور یہ کہا کہ اس کتاب میں صرف ایک کہانی سات منزلہ بُت ہے جو اچھی اور معیاری ہے باقی سب کمزور کہانیاں ہیں۔ یہ کہانیاں کمزور کیوں ہیں، مین را نے اس پر سیر حاصل گفتگو کی۔ مجمع خاموشی کے ساتھ مین را کی گفتگو سنتا رہا۔ آخیر میں انور عظیم نے افسوس ظاہر کیا کہ تمام لوگ خاموش ہیں۔ میں مین را کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے میری کہانیوں کو پڑھ کر بے لاگ تبصرہ کیا۔ دوسرے دن انور عظیم اور مین را کاندھے پر ہاتھ رکھ کر گھوم رہے تھے اور لوگ حیرت زدہ تھے۔”

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں