The news is by your side.

Advertisement

بطور اٹارنی جنرل جو ڈرافٹ ملا اسے عدالت میں پیش کیا، انور منصور

اسلام آباد: سابق اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا ہے کہ بطور اٹارنی جنرل جو ڈرافٹ ملا اسے عدالت میں پیش کیا، فہرست بنانے کے بعد میرے حوالے کی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’پاور پلے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جج کی جاسوسی سے متعلق میرے علم میں کچھ نہیں، تحقیقات سے متعلق آگاہی دی گئی جس کو عدالت میں پیش کیا۔

انور منصور کا کہنا ہے کہ مجھ سے کسی اسٹیج پر بھی مشاورت نہیں کی گئی، مجھے ایک ڈرافٹ دیا گیا تھا کہ آپ اس کو پیش کریں گے، عدالت میں بیان دینے سے متعلق وزیر قانون اور شہزاد اکبر کو معلوم تھا۔

مزید پڑھیں: اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور نے استعفیٰ دے دیا

سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ بیان دینے کے بعد وزیر قانون اور شہزاد اکبر نے سراہا، وزیر قانون اور شہزاد اکبر کو علم تھا میں یہ بیان دوں گا، جو معلومات آئی تھیں اس میں کوئی انٹیلی جنس شامل نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ معلومات انٹیلی جنس ایجنسی سے نہیں بلکہ اے آر یو کی جانب سے آئی تھی، یہ معلومات مجھے کس نے دی ابھی اس کا نام نہیں بتاسکتا، وقت آنے پر ہوسکتا ہے کہ معلومات دینے والے کا نام سامنے لے آؤں، کچھ مزید معلومات بھی ہیں جو مناسب وقت پر دوں گا۔

واضح رہے کہ انور منصور نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر استعفیٰ دے رہا ہوں، افسوس ہے کہ جس بار کونسل کا میں چیئرمین ہوں اس نے مجھ سے استعفیٰ مانگا۔

 

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں