The news is by your side.

Advertisement

مشرف کیس کے تفصیلی فیصلے کے پیرا 66 سے ذہنی کیفیت کی عکاسی ہوتی ہے، انور منصور

اسلام آباد : اٹارنی جنرل انور منصورنے کہا ہے کہ مشرف کیس کے تفصیلی فیصلے کے پیرا66سے ذہنی کیفیت کی عکاسی ہوتی ہے، اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پورا فیصلہ کس ذہنیت سے لکھا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ فیصلے میں پیرا66نہ ہوتا تو سپریم جوڈیشل کونسل نہ جاتے، ریفرنس سےمتعلق طریقہ کار کے مطابق چلاجاتا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس سننے کی پابند ہوتی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس پر فیصلہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جج کے ان فٹ ڈیکلیئر ہونے پر فیصلے پر اثر نہیں پڑے گا، فردوس عاشق نےغلط کہا ہے کہ فیصلہ کالعدم ہوجاتا ہے، فیصلے میں قانونی سقم کی صورت میں حکومت بھی عدالت جاسکتی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کا عدالتی فیصلے پر اثر نہیں ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اپیل کی صورت میں3ممکنہ فیصلے ہوسکتے ہیں، پہلی صورت میں اپیل مسترد ہوسکتی ہے، دوسری صورت میں سزا میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، تیسری صورت میں فیصلے میں ترمیم کی جاسکتی ہے، اپیل میں سپریم کورٹ پیرا66کو ہٹانےکا حکم دے سکتی ہے۔

انور منصور نے واضح کیا کہ میں فیصلے پر کوئی رائے نہیں دے رہا مجھے صرف پیرا 66 پر اعتراض ہے، فیصلے پراپیل ہوتی ہے تو قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا، جسٹس نذر نے لکھا ہے کہ ثابت نہیں ہوسکا کہ مشرف تنہا تھے یا اور لوگ بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل45کے ذریعے صدر پاکستان مجرم کو معافی دے سکتےہیں، ریاست کیس کو اس مرحلے پر واپس نہیں لے سکتی، کیس کی ازسر نوسماعت کی ہدایت ہو تو کیس واپس لیا جاسکتا ہے،

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت غلطیاں درست کرکے دوبارہ کیس فائل کرنا چاہتی تھی، عدالت نے شاید یہ بھانپ لیا اورراتوں رات فیصلہ سنا دیا، حکومت نے درخواست بھی دی جس کو مسترد کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں