The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: انور مقصور کے چٹکلے، پاکستانی سفیر کو بھی نہ بخشا

ریاض: سعودی عرب میں موجود پاکستانی سفارت خانہ میں انور مقصود کے طنز و مزاح سے بھرپور ڈارمے ’لوز مشاعرے‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانیوں سمیت دیگر ایشیائی ممالک کے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پاکستان کے نامور لکھاری، دانشور اور مزاحیہ اداکار انور مقصود نے اپنا تحریر کردہ ’لوز مشاعرہ‘ پیش کیا جبکہ دیگر اداکاروں نے بھی اپنی فنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس سے شرکاء بہت محظوظ ہوئے۔

اس موقع پر منتظم  ظفر اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہماری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستانیوں کو بہتر تفریح مواقع فراہم کیے جائیں جس کے لیے پاکستانی کمیونٹی اور سفارت خانے کا تعاون بھی درکار تھا۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر میرا کوئی اکاؤنٹ موجود نہیں، انور مقصود

اُن کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں اور سفارت خانے کے تعاون کی وجہ سے شاندار تقریب کا انعقاد ممکن ہوا، اس طرح کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا‘۔

شرکاء سے بات کرتے ہوئے شمشاد احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ انور مقصود کا لوز مشاعرہ پوری دنیا میں مشہور ہے مگر سعودی عرب میں اب تک ایسا کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا گیا تھا، نامور فنکاروں کی ہمارے درمیان موجودگی قابلِ فخر ہے۔

سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر خان ہشام بن صدیق کا کہنا تھا کہ ہمارے فنکار ہمارا اثاثہ اور پاکستان سے باہر ملک کہ پہچان ہیں، یہ لوگ جس طرح اداکاری کے جوہر دکھاتے ہیں اس کی دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔

یہ بھی پڑھیں: انور مقصود کی سوانح حیات ’الجھے سلجھے انور‘کی تقریب رونمائی

اُن کا کہنا تھا کہ ’انور مقصود ہمارے ایسے دانشور ہیں جن کے الفاظ میں شرارت کا عنصر تو موجود ہے مگر اس میں ایک نصیحت بھی چھپی ہوتی ہے‘۔

انور مقصود نے اسٹیج پر آتے ہی مسکراہٹوں کا طوفان برپا کیا اور سب سے پہلے پاکستانی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جب پہلی بار خان ہشام بن صدیق کا نام معلوم ہوا تو ایک لمحے کے لیے مجھے گماں ہوا کہ شاید سعودی عرب نے اپنے ہی کسی آدمی کو پاکستانی سفیر مقرر کردیا‘۔

تقریب میں سفیر خان ہشام بن صدیق نے انور مقصود سمیت تمام اداکاروں کو اعزازی سرٹیفکیٹ بھی دئیے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں