افسانہ نگار، نقاد اور محقق ڈاکٹر انور سدید نے اردو ادب میں اپنی فکر اور فن کی بدولت بڑا نام پایا اور علمی و ادبی حلقوں کے ساتھ بطور کالم نگار عام قارئین میں بھی مقبول ہوئے۔ آج ڈاکٹر انور سدید کی برسی ہے۔ وہ 20 مارچ 2016ء انتقال کرگئے تھے۔
ڈاکٹر انور سدید اک تعلق ضلع سرگودھا کے دور افتادہ قصبہ مہانی سے تھا۔ وہ 4 دسمبر 1928ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرگودھا اور پھر ڈیرہ غازی خان کے اسکولوں سے مکمل کی اور میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ مزید تعلیم کے لیے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ یہ وہ دور تھا جب اسلامیہ کالج لاہور میں تحریک پاکستان کی سرگرمیاں زور پکڑ چکی تھیں، انور سدید بھی ان میں شرکت کرنے لگے۔ اسی عرصہ میں افسانہ نگاری کا آغاز کردیا۔ ان کے افسانے مشہور ادبی جرائد میں شایع ہونے لگے۔ پیشہ ورانہ زندگی کی ابتدا محکمۂ آبپاشی میں لوئر گریڈ کلرک سے کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ انجینئرنگ اسکول رسول (منڈی بہاء الدین) میں داخل ہو گئے۔ اگست 1948ء میں اوّل آنے اور طلائی تمغہ پانے کے بعد آب پاشی کے ڈیپارٹمنٹ میں سب انجینئر کی حیثیت سے تقرری ہو گئی۔ انھوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی اور ملازمت کے بعد دوبارہ تعلیم کی طرف راغب ہوئے۔ ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے دیے۔ انور سدید نے”اردو ادب کی تحریکیں” کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے نگران و سرپرست ڈاکٹر وزیر آغا جیسے بڑے ادیب اور انشا پرداز تھے۔ بعدازاں انور سدید نے انجینئرنگ کا امتحان اے ایم آئی، انسٹی ٹیوٹ آف انجینئر ڈھاکہ سے پاس کیا۔ محکمۂ آبپاشی پنجاب سے 1988ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ وہ روزنامہ "نوائے وقت” سے آخر دم تک وابستہ رہے اور تجزیے اور کالم نگاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ تنقید، انشائیہ نگاری اور شاعری میں انھوں نے اپنی فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کا خوب خوب اظہار کیا۔ انھیں اے پی این ایس کا بہترین کالم نگار کا ایوارڈ دیا گیا جب کہ ۲۰۰۹ میں تمغائے امتیاز سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر انور سدید نے ادبی تنقید اور دیگر اصناف پر تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو ان کے کالموں کے علاوہ ہیں۔ ان کی تحریروں اور تصانیف پر نظر ڈالی جائے تو ان میں اُردو اَدب میں سفر نامہ، ادبی تاریخ ”اُردو ادب کی تحریکیں، میر انیس کی اقلیم سخن، غالب کا جہاں اور، فکر و خیال، اختلافات، کھردرے مضامین، برسبیل تنقید کے ساتھ متعدد شخصیات پر کتب شامل ہیں۔ خاکہ نگاری کی بات کی جائے تو اس میں محترم چہرے، قلم کے لوگ، ادیبانِ رفتہ اور زندہ لوگ انور سدید کے قلم سے نکلی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


