واشنگٹن (10 جون 2026): ایران کے ہاتھوں ’’غلطی‘‘ سے مار گرائے گئے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے عملے کو آبنائے ہرمز میں ایک ڈرون بوٹ نے بچایا تھا، جسے ’’کورسیر‘‘ (Corsair) کہا جاتا ہے۔
ایکسیوس کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن تھا، جس میں خطرات کی سطح انتہائی بلند تھی۔ یہ واقعہ مستقبل کی جنگ کی ایک جھلک بھی پیش کرتا ہے، جس میں انسان اور جدید، خودکار اور عسکری مشینیں ایک ساتھ کام کریں گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے امریکی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ کورسیر نے عملے کو سمندر میں ایک مقام پر منتقل کیا اور بعد میں انھیں ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اوپر اٹھایا گیا۔ دونوں اہلکار اس وقت مستحکم حالت میں ہیں۔
اگرچہ کمپنی سارونِک کے مطابق کورسیر ایک خودکار کشتی ہے، تاہم ریسکیو مشن کے دوران اس بوٹ نے حرکت کیسے کی اور اسے کیسے کنٹرول کیا گیا، اس کے بارے میں واضح نہیں ہو سکا ہے۔
امریکی ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ نائب ایرانی وزیر خارجہ نے بتا دیا
یہ نظام امریکی بحریہ کی ٹاسک فورس 59 کے تحت آپریٹ کیا جا رہا ہے، جو 2021 میں بغیر عملے کے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو بحری آپریشنز میں شامل کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ امریکی بحری قیادت برسوں سے ’’ہائبرڈ فلیٹ‘‘ یعنی انسان بردار اور بغیر انسان کے جہازوں کے مشترکہ نظام کی حمایت کرتی رہی ہے۔
اکتوبر 2024 میں متعارف کرائی گئی بوٹ کورسیر 24 فٹ لمبی ہے۔ یہ 1000 ناٹیکل میل تک سفر کر سکتی ہے، 1000 پاؤنڈ وزن اٹھا سکتی ہے اور 35 ناٹس سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتی ہے۔
امریکی بحریہ نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ اس نے سارونِک کے ساتھ 392 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ڈرون بوٹس تیار کی جائیں گی۔ اس کمپنی کے سی ای او ڈینو ماوروکاس نے اپنے کیریئر کا آغاز بحریہ میں کیا تھا اور وہ کئی سال تک سِیل ٹیم سکس (SEAL Team Six) کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے بوئنگ AH-64 اپاچی کو مار گرایا ہے، جس پر انھوں نے ایران کے خلاف فوجی ردعمل کا عزم ظاہر کیا۔ اس کے بعد منگل کی شام ایران کے خلاف سلسلہ وار حملے کیے گئے، ایران کے ساحلی علاقے سیریک میں میزائل حملہ ہوا، صوبے ہزمزگان کے مشرقی علاقوں میں بھی دھماکے سنے گئے، ایرانی جزیرے قشم پر بھی حملہ کیا گیا، بندرعباس میں بھی دھماکے سنے گئے۔ امریکی فوج نے ایرانی ریڈارز اور میزائل کمانڈ اینڈ کنٹرول سائٹس کو نشانہ بنایا۔
جواب میں ایران کی فوج نے بحرین اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، بحرین کے بادشاہ کے ترجمان نے کہا کہ ان کے ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو ناکام بنایا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق ایران نے ابتدائی ردعمل میں کم از کم چار بیلسٹک میزائل اور کئی ڈرون فائر کیے۔


