The news is by your side.

Advertisement

اے پی سی سی اجلاس: احسن اقبال اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میں تلخ کلامی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے درمیان بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے شروع نہ کرنے پر اے پی سی سی اجلاس میں تلخ کلامی ہوگئی۔ وزیر اعلیٰ اپنی ٹیم کے ہمراہ اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے جس کے باعث اجلاس کی کارروائی روک دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت اے پی سی سی کا اجلاس منعقد ہوا۔ دوران اجلاس بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے شروع نہ کرنے پر احسن اقبال اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔


Heated conversation between Ahsan Iqbal and CM… by arynews

اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے لیے سالانہ ترقیاتی بجٹ پر مشاورت کی جانی تھی تاہم ذرائع کے مطابق اجلاس کی کارروائی کے دوران احسن اقبال کی بریفنگ کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا للہ زہری نے بلوچستان کو دیے جانے والے فنڈ سے متعلق سوال کیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ بلوچستان کو سوئی کے پراجیکٹ کے لیے 50 کروڑ روپے دیے ہیں۔ آپ منصوبے پیش کریں گے تو فنڈز جاری کیے جائیں گے۔ ثنا اللہ زہری نے کہا کہ بلوچستان کے لیے کوئی پراجیکٹ نہیں رکھا گیا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ثنا اللہ زہری کو ان کی ٹیم نے غلط بریف کیا۔

احسن اقبال نے بتایا کہ سوئی کے لیے 2 سال سے پیسے بجٹ میں رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت پی سی ون بنا کر نہیں بھیج سکی۔

تلخ کلامی کے بعد وزیر اعلیٰ اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ اجلاس سے بلوچستان کی نمائندگی ختم ہونے کے بعد کاروائی روک دی گئی۔ بعد ازاں وفاقی وزیراحسن اقبال کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کو سوئی کے منصوبوں کے لیے پیکج دینے کو تیار ہیں تاہم وہ منصوبے بھی تو پیش کریں۔

اے پی سی سی اجلاس کی کارروائی نماز جمعہ کے بعد دوبارہ شروع ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں