نئی دہلی (03 دسمبر 2025): آئی فونز بنانے والی کمپنی ایپل نے بھارتی حکومت کو سرکاری ایپ انسٹال کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
روئٹرز کے مطابق ایپل نے بھارتی حکومت کی اُس ہدایت پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اس سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز میں ایک سرکاری سائبر سیفٹی ایپ پہلے سے انسٹال کرے۔
مودی حکومت کے اس اقدام نے نگرانی (سرویلنس) کے خدشات اور ملک میں سیاسی ہنگامہ آرائی کو ہوا دی ہے، ایپل نے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی تحفظات نئی دہلی تک پہنچائے گا۔
بھارتی حکومت نے خفیہ طور پر ایپل، سام سنگ اور شیاومی سمیت دیگر کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ 90 دن کے اندر اپنے تمام فونز میں ’’سنچار ساتھی‘‘ یعنی ’’رابطے کا ساتھی‘‘ نامی ایپ پہلے سے لوڈ کریں۔اس ایپ کا مقصد چوری شدہ موبائل فونز کو ٹریک کرنا، انھیں بلاک کرنا اور ان کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
مودی سرکار یہ بھی چاہتی ہے کہ فون ساز کمپنیاں یہ یقینی بنائیں کہ ایپ کو غیر فعال نہ کیا جا سکے، اور جو ڈیوائسز پہلے ہی سپلائی چین میں موجود ہیں، ان میں اس ایپ کو سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے بھیجا جائے۔ خبر سامنے آنے کے بعد بھارت کی ٹیلی کام وزارت نے بعد میں اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک ایسا حفاظتی قدم قرار دیا جو ’’سائبر سیکیورٹی کو شدید خطرات‘‘ سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔
اسمارٹ فون میں سرکاری ایپ کی تنصیب پر پریانکا گاندھی کا رد عمل
وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی مخالفین اور پرائیویسی کے علم برداروں نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس کے ذریعے بھارت کے 73 کروڑ اسمارٹ فون صارفین تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ تنقید بڑھنے کے بعد، بھارتی وزیرِ مواصلات جیوتی رادتیہ سندھیا نے منگل کے روز کہا کہ یہ ایپ ’’رضاکارانہ اور جمہوری نظام‘‘ کا حصہ ہے، اور صارفین چاہیں تو اسے فعال کریں، اور ’’کسی بھی وقت اسے آسانی سے اپنے فون سے حذف کر سکتے ہیں۔‘‘
روئٹرز کے مطابق فی الحال واقعی صارفین اس ایپ کو حذف کر سکتے ہیں، مگر سندھیا نے 28 نومبر کے اُس خفیہ حکم نامے کے بارے میں کوئی تبصرہ یا وضاحت نہیں کی جس میں اسمارٹ فون ساز کمپنیوں کو اسے پہلے سے انسٹال کرنے اور اس کی ’’خصوصیات کو غیر فعال یا محدود نہ ہونے‘‘ کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔
تاہم صنعتی ذرائع کے مطابق ایپل اس حکم پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ کمپنی حکومت کو بتائے گی کہ وہ دنیا میں کہیں بھی اس قسم کے لازمی احکامات نہیں مانتی، کیوں کہ یہ کمپنی کے iOS نظام میں پرائیویسی اور سیکیورٹی سے متعلق متعدد سنگین مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ذرائع نے کہا ’’یہ صرف ہتھوڑا مارنے جیسی بات نہیں، یہ تو دو نالی بندوق چلانے جیسا اقدام ہے۔‘‘
ایپل اور بھارتی ٹیلی کام وزارت نے اس معاملے پر روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا ہے۔ حالیہ عرصے میں سائبر جرائم اور ہیکنگ کے اضافے سے نمٹنے کے لیے بھارت بھی اُن عالمی حکومتوں میں شامل ہو رہا ہے جو چوری شدہ فونز کے غلط استعمال کو روکنے یا سرکاری خدمات فراہم کرنے والی ایپس کو فروغ دینے کے لیے ایسے قواعد وضع کر رہی ہیں، روس بھی حال میں ان میں شامل ہوا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


