وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پنجاب میں 336 افراد کی غیرقانونی بھرتیاں -
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پنجاب میں 336 افراد کی غیرقانونی بھرتیاں

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سیکرٹریٹ میں میرٹ کے برعکس من پسند افراد کی بھرتیاں جاری ہیں، تین سو چھتیس افراد کو معمول سے ہٹ کر بھرتی کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کو نظراندازکرکے اپنے خصوصی اختیارات کااستعمال کیا اورمن پسند افراد کونواز دیا۔

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے گزشتہ پانچ سال کے دوران مختلف مواقع پربھرتی کے قوانین میں نرمی کرکے 336 من پسند افراد بھرتی کرلیے۔

ایک من پسند چہیتے کونوازنے کےلئے اسسٹنٹ کنٹرولر کی نئی سیٹ نکالی گئی، پھر اس سیٹ کو پبلک سروس کمیشن کے دائرہ اختیار سے بھی نکال لیا گیا اور بعد ازاں اس سیٹ کے لیے اردو کے دو اخباروں میں اشتہارات بھی دیےگئے ، دوسری جانب تعلیمی میرٹ بھی وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے خود ہی بنا لیا گیا، 40 امیدواربلائے 39 کو انٹرویو میں فیل کردیا۔

من پسند چہیتے کو نوکری دینے کےلیے باقی امیدواروں کو غیر متعلقہ تجربہ کی مد میں فیل کیا گیا، جبکہ اپنے منظور نظرشخص کوانٹرویو میں پانچ میں سے چارنمبر دے کر نوکری کےلیے اہل قرار دے دیا۔

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے معیار پر پورا اترنے والے اس امیدوار کا نام مجاہد علی ہے جس کی تعلیمی قابلیت محض بی کام ہے جبکہ اس پوسٹ کے لیے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو مسترد کردیا گیا اور مجاہد علی کو محض ایک بڑے ہوٹل میں تین ماہ کا ٹرینی ویٹر کا تجربہ ہونے کی بنا پر گریڈ 16 میں پانچ سال کے لئے براہ راست بھرتی کرلیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں