جمعرات, جولائی 16, 2026
اشتہار

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں آئینی ترمیم کا بنیادی مجوزہ ڈرافٹ منظور

اشتہار

حیرت انگیز

قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا بنیادی مجوزہ ڈرافٹ منظور کر لیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا بنیادی مجوزہ ڈرافٹ پر اتفاق کر لیا ہے۔

اجلاس میں نماز مغرب کا کیا گیا ہے کہ اور وقفے کے بعد صدارتی استثنیٰ اور اتحادیوں کی تجاویز پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

وزیر قانون کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بل میں شامل شقوں پر تقریباً تمام کام مکمل ہو گیا ہے کچھ تجاویز جو بعد میں آئیں ان پربات چیت جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے نام کی تبدیلی سے متعلق کچھ بات ہوئی ہے جب کہ ایم کیو ایم اوربی اےپی کی تجاویز پر اب غور کیا جا رہا ہے، اےاین پی اوربی اےپی کی تجاویز پر اپنی اپنی قیادت سےبات ہو گی، وقفہ اس لیے ہی کیا گیا کہ سیاسی جماعتیں اپنی قیادت سےبات کر لیں۔

ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کے سلسلے میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی، آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری صدر مملکت کریں گے۔

کی گئی آئینی ترمیم کے مطابق آئینی عدالت کا سربراہ باقی ججز کی نامزدگی خود کرے گا، اور آئینی عدالت 7 ججز پر مشتمل ہوگی۔

قائمہ کمیٹی نے ججز ٹرانسفر کے حوالے سے آئینی ترمیم کی منظوری بھی دے دی ہے، اس ترمیم کے تحت جو جج ٹرانسفر پر رضامند نہیں ہوگا اسے ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا، ریٹائرڈ جج کو مراعات اور پنشن دی جائے گی۔

اے این پی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں اپنی جانب سے خیبرپختونخوا کے نام سے خیبر ہٹا کر پختونخوا رکھنے کی ترمیم پیش کی، اور مؤقف رکھا ہے کہ خیبر ضلع ہے اور دیگر صوبوں میں نام کے ساتھ ضلع کا نام نہیں لکھا جاتا۔

اہم ترین

علیم ملک
علیم ملک
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں

مزید خبریں