The news is by your side.

Advertisement

پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن ہٹ دھرمی پر اتر آئی

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے اسکول بند کرنے کے اعلان کے بعد آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن ہٹ دھرمی پر اتر آئی، فیڈریشن نے لانگ مارچ کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے پنجاب، خیبر پختونخواہ اور آزاد کشمیر کے مخصوص علاقوں میں تعلیمی ادارے 11 اپریل تک بند رکھنے کے اعلان کے بعد آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن ہٹ دھرمی پر اتر آئی۔

فیڈریشن نے اسکولز بند کرنے سے انکار کر دیا۔ فیڈریشن کے سربراہ کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ اسکولز مزید 11 اپریل تک بند نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تادیبی کاروائیاں بند نہ ہوئیں تو لانگ مارچ ہوگا، ڈبل شفٹ میں 50 فیصد حاضری کے ساتھ کلاسز میں تدریس جاری رہے گی، طلبا، اساتذہ و اسٹاف کی ویکسی نیشن ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔

کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ حکومتی و سیاسی اجتماعات کرونا وائرس پھیلاؤ کی اصل وجہ ہیں انہیں فوری بند کیا جائے۔ وزیر اعظم، چیف جسٹس، آرمی چیف اور این سی او سی غیر قانونی سیاسی اجتماعات رکوائیں اور تعلیمی سلسلہ بحال رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سب کھلا ہے تو اسکولز مزید بند نہیں ہوں گے، مائیکرو لاک ڈاؤن کا آپشن استعمال کیا جائے۔ طلبا کا مزید تیسرا سال ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ یونیسف کے مطابق اسکولز کی بندش سے 4 کروڑ پاکستانی طلبا کی تعلیم مستقل متاثر ہوئی ہے، آن لائن تعلیم فلاپ ہوچکی ہے، آن لائن تعلیم کی سہولت ملک بھر میں محض 2 فیصد طلبا کو میسر ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی لاک ڈاؤن کے باعث 5 کروڑ طلبا کے تعلیمی نقصان کا ازالہ ناممکن ہے، ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے پہلے ہی اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔

فیڈریشن صدر کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ، یونیسف، یونیسکو اور عالمی بنک ایڈوائزری کے مطابق کرونا وائرس میں بھی اسکولز کھلے رکھے جائیں، بند کرنے سے نقصانات زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نجی اسکولز کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، بندش سے 10 ہزار اسکولز مکمل بند اور 7 لاکھ استاد بے روزگار ہوچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں