site
stats
اے آر وائی خصوصی

اپریل فُول ایک فضول رسم اور قبیح فعل

ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسی غیراخلاقی وبائیں اور غلط رسمیں ہیں جو مغرب کی تہذیب یافتہ قوموں کی ہیں ،اسی قسم کی خرافات اور خلاف ِمروت اور خلاف تہذیب جاہلیت کی ایک چیز اپریل فول بھی ہے ۔ہماری جدید نسل بھی خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ اسے نہایت اہتمام اور گرم جوشی سے مناتا ہے اور اپنے اس فعل کو عین عبادت خیال کرتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مغرب خصوصاً اہل یورپ افراد معاشرہ کے ساتھ عملی مذاق اور دوسروں کوبے وقوف بنانے کی غرض سے ایک مخصوص دن میں یہ تہوار مناتے ہیں۔

ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ ،، منافق کی تین نشانیاں ہیں ،بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ،وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے،اور جب امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتاہے۔،، ایک حدیث میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ ہی کافی کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کیے آگے بیان کردے۔۔ لہٰذا اپریل فول منانے سے اجتناب کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی بات بغیر تحقیق کے آگے نہ بڑھائیں۔

انسائیکلو پیڈیاانٹر نیشنل کے مطابق مغربی ممالک میں یہ دن نہ صرف قومی و ملی تہوار تصور کیا جاتا ہے بلکہ اہل خانہ و اہل معاشرہ کے ساتھ جھوٹ گھڑنے کو عین عبادت خیال کیا جاتاہے۔ یہ فول و فضو ل رسم اب مسلم معاشرے کا بھی حصہ سمجھا جانے لگا ہے،جبکہ حقیقت بھی یہ ہے کہ یہ تہوار صرف مذاق نہیں بلکہ مسلمانوں پرعیسائیوں کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی خوشی میں شرکت اور اسلامی مذہبی قدروں کے ساتھ عملی مذاق ہے۔

اپریل فول کی تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد مسلمانوں پر بے انتہا ظلم و ستم ڈھائے گئے ان کا قتل عام کیا گیا ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو توڑا گیا اور مسلمانوں کو زبردستی اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور انکار پر مسلمانوں کو بے دخل کرکے ان کا بے دردی سے قتل عام کردیا گیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے اپریل فول یا اس سے مشابہت رکھنے والے کسی بھی غیر اسلامی اور غیر شرعی تہواراورمشرکانہ رسوم کا منانا سراسر غلط ہے اور یہود و نصاری کی مشابہت اختیار کرنے کے مترادف ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top