The news is by your side.

Advertisement

شہدا کا خون ہم پر قرض ہے‘ جنگ جلد ختم کریں گے: آرمی چیف

پشاور: آرمی پبلک اسکول پشاور میں شہدا کی یاد میں مرکزی تقریب کا آغاز ہوگیا ہے‘ تقریب میں آرمی چیف قمر باجوہ بھی شریک ہیں۔

آج سے دوسال قبل پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول کے سانحے کی یاد میں پورے ملک میں ہر آنکھ اشکبار ہے اور دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے ‘ مرکزی تقریب متاثرہ اسکول میں ہورہی ہے ۔


آرمی چیف قمر باجوہ کا خطاب


آرمی چیف قمرباجوہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کے خون کے حساب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے‘ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ شہید بچوں کی تصاویر اپنے دفتر میں رکھی ہوئی ہیں ‘ ان پھول جیسے معصوم بچوں کو بھلایا نہیں جا سکتا‘ آرمی چیف نے لواحقین سےاظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی ایک شوہر ہوں‘ بھائی اور والد بھی ہوں‘ آپ کے دکھ کو سمجھ سکتا ہوں۔

جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھا کہ مسلح افواج آپ کی حفاظت کی ضامن ہیں‘ کوشش ہے کہ اس جنگ کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شہید ہونے والے شہداء کا خون ہم پر قرض ہے‘ تقریب کے انعقاد کا مقصد بچوں کی قربانی کو یاد رکھنا ہے۔

آخر میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان لواحقین کوجن کے بچے ، بہن بھائی اس حملے میں شہید ہوئے‘ حوصلہ دے اور انھیں صبر و جمیل عطا فرمائے۔


اس سے قبل آرمی پبلک اسکول کی پرنسپل نے تقریب کے آغاز میں 2014 میں شہید ہونے والے طلبا سمیت 140 سے زائد افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘مسز طاہرہ قاضی، اساتذہ اور بچوں کی شہادت نے قوم کو مضبوط اور متحد کردیا، ہم عہد کرتے ہیں کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کی شہادت کو اپنے لیے بہادری اور عظمت کا نشان بنا کر رکھیں گے’۔

آج پشاور شہر میں سوگ کا عالم ہے‘ اسکولوں میں تعطیل ہے اور لوگ شہدا کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کررہے ہیں۔

peshawar-3


سانحہ آرمی پبلک اسکول کو دو برس بیت گئے


 مرکزی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ‘ کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمن اور لیفٹینٹ جنرل عاصم باجوہ سمیت اہم شخصیات موجود ہیں۔

تقریب میں شہدا کے لواحقین بھی شریک ہیں ‘ تلاوتِ قرآن ِ پاک کے بعد جنرل قمر باجوہ نے یادگارِ شہدا ٔ پر پھول چڑھائے ‘ اس موقع پر پاک فوج کے دستے نے سلامی بھی دی۔

peshawar-1

آج سے دو سال قبل دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے 134 بچوں سمیت 145 معصوم اور بے گناہ افراد کو خون میں نہلادیا تھا۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول پاکستان کی تاریخ کا سب سے اندوہناک واقعہ تھاجس نے ساری دنیا کوششدرکرکے رکھ دیا۔ اس غم انگیزدن کے بعد پاکستان میں سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے مکمل تبدیلیاں کی گئیں اوردہشت گردی میں
ملوث ملزمان کوسزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں