The news is by your side.

Advertisement

القاعدہ کے ذیلی گروہ – دنیا بھرکے امن کو خطرہ

دبئی: 1988 میں اسامہ بن لادن کی سربراہی میں تشکیل پانے والے شدت پسند جہادی نیٹ ورک کی تشکیل کے بعد القاعدہ کا نیٹ ورک کئی براعظموں میں تیزی کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا۔

تفصیلات کے مطابق القاعدہ کی بنیاد کے بعد سے اسے دنیا بھر میں سلامتی کے لئے خطرہ سمجھا جاتا ہے ۔ اس وقت زمینی حقائق دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ القاعدہ کے ذیلی گروہوں میں سے خودمختاری حاصل کرنے والا گروہ داعش دنیا بھر میں انتہا ءپسندی کے حوالے سے تیزی سے ابھر کر سامنے آرہا ہے ۔

القاعدہ عرب

عرب کے مختلف خلیجی ممالک میں ایک معاہدے کے تحت 2009 میں یمنی جہادی گروپ کو ضم کر کے القاعدہ میں شامل کیا گیا ۔ امریکہ کی جانب سے یمنی گروپ کو سب سے مضبوط جہادی گروپ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یمنی حکومت اور شیعہ باغیوں کے تنازعات شدت اختیار کیے جانے کے بعد ستمبر 2014 کے بعد ملک کے جنوبی علاقوں میں اس گروپ نے اپنی گرفت بہت مضبوط کی ہے ۔نصیر الوحشی کے ڈرون حملے میں مارنے جانے کے بعد القاعدہ عرب کی بھاگ دوڑ قصیم الرامی کے حوالے کردی گئی۔

2006 میں صنعا میں گرفتار ہونے والے 21 افراد میں شامل ہیں ۔ان تمام افراد کو   لڑتے ہوئے گرفتار  ہوگئے تھے ۔حال ہی میں فرانسسیمیگزین چارلی ہیپڈو کی جانب سےمتنازعہ خاکوں کی اشاعت کے بعد حملے کیا گیا ،حملے میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ عرب گروپ نے قبول کی تھی ۔ جبکہ اس گروپ نے 2009 میں کرسمس کے دوران امریکی جہاز پر بھی حملہ کیا تھا۔ یمن 2000  میں عدن کے مقام پر ایک حملے کے دوران 20 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری القاعدہ یمن نے قبول کی ۔

النصرہ فرنٹ شام

اس گروپ کا قیام جنوری 2012 میں عمل میں آیا ، 10 ماہ کے بعد اس گروپ نے حکومت مخالف مظاہروں کی ابتدا ءکی، مظاہرین کو صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ابو محمد الجولانی نے اس مقصد کے لئے دنیا بھر سے 8 ہزار کے قریب جنگجو تیار کر کے عراق بھیجے ۔

اپریل 2013 میں اس گروپ نے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے اپنے گروپ کو القاعدہ کے ساتھ ضم کرنے کا اعلان کیا ۔ اس اعلان کے بعد گروپ  کو مشرقی تیل سے مالا مال علاقوں کی ذمہ داری دے دی گئی ، اس گروپ نے تمام صوبوں میں اپنی گرفت بہت مضبوط کی ۔

القاعدہ اسلامی مغربی گروپ

2007 میں اس گروپ نے بن لادن کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئےاتحاد کا اعلان کیا ۔اس گروپ کے جنگجووں نے جنوبی لیبیا میں منشیات اور اغوابرائے تاوان کی وارداتوں میں اپنی گرفت کو مضبوط رکھا اور کئی افراد کو قتل کیا۔

2013 میں فوجی مداخلت کے بعد جنوبی لیبیا سے اپنی گرفت کھو دی ۔ تاہم یہ گروپ ابھی بھی مغرب اور ساحلی علاقوں میں سرگرم ہے اور اس نے پے در پے الجیریا، برکینا فاسو، آئیوری کوسٹ اور مالی میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

القاعدہ بر صغیر

افغانستا ن میں مسلسل شکست کو مد نظر رکھتے ہوئے القاعدہ کی جانب سے 2014 میں برصغیر گروپ کی تشکیل دی گئی ۔ اس گروپ میں بھارت ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، میانمار میں پہلے سے موجود جہادی گروپ ضم کئے گئے ۔ ابتدا ء میں اس گروپ کے ممبران کی تعداد 400 سے 500 تک تھی ۔ مگر وقت کے ساتھ پاکستان کے ہزاروں جہادیوں نے اس گروپ میں شمولیت اختیار کی ۔

حال ہی میں بنگلہ دیش میں قتل ہونے والے کالم نگار کے قتل کی ذمہ داری اس گروپ نے قبول کی ہے ۔ واضح رہے اس بلاگر نے اپنی تحریر میں اس گروپ کے خلاف حقائق کو کھل کر بیان کی گیا تھا ۔

 

 

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں