The news is by your side.

Advertisement

اسپین کا بڑا اقدام، تارکین وطن کے جہاز کو قبول کرلیا

میڈرڈ : فرانسیسی تنظیم ایس او ایس میڈیٹرینی کا تارکین وطن سے بھرا ہوا بحری جہاز اسپین پہنچ گیا، اسپین کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’انسانی حقوق کے تحت تارکین وطن کو محفوظ بندر گاہ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے‘۔

تفصیلات کے مطابق چند روز قبل فرانسیسی تنظیم ایس او  ایس میڈیٹرینی کے مہاجرین سے بھرا ہوا بحری جہاز اسپین کے شہر ویلنشیا میں لنگر انداز ہوگیا ہے جہاں تارکین وطن کا مہاجرین کے کیمپ میں استقبال کیا گیا ہے۔

اسپین کے شہر ویلنشیا سٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فرانسیسی تنظیم کے بحری جہاز میں 450 مرد، سات حاملہ خواتین سمیت 80 عورتیں، اور کم عمر بچے سوار  تھے، جنہیں چند روز قبل سمندر میں ڈوبنے سے بچایا تھا اور اٹلی روانہ کیا تھا لیکن اٹلی نے جہاز کو لنگر انداز ہونے سے منع کردیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپین کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’انسانیت کی خدمت کرنا اور انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچانے میں مدد کرنا اور انسانی حقوق کے قوانین کے تحت کے تارکین وطن کو بندر گاہ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے‘۔”

ہسپانوی شہر ویلنشیا کے میئر کا تارکین وطن کے ساتھ اٹلی کے ناروا سلوک پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مہاجرین سے بھرے ہوئے جہاز کو اٹلی نے لنگر انداز ہونے کی اجازت نہ دینا، اٹلی کا غیر انسانی اقدام تھا‘۔

ریڈ کراس کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ’تارکین وطن کے یورپی ممالک آنے کی وجہ یورپ کی اقدار ہیں، اگر مہاجرین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا تو یورپی اقدار سے بے وفائی ہوگی‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اسپین پہنچے والے تارکین وطن امداد کے لیے 2،320 افراد پر مشتمل ٹیم حرکت میں آگئی ہے، جس میں ریڈ کراس کے بھی1 ہزار رضا کار شامل ہیں۔

اسپین کی حکومت نے گذشتہ روز جاری بیان میں کہا تھا کہ فرانسیسی حکومت مہاجرین میں ان تارکین وطن کو قبول کرے گی جو فرانس میں پناہ لینا چاہتے ہیں۔


اٹلی اور فرانس کے درمیان مہاجرین کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ


یاد رہے کہ اٹلی میں موجودہ حکومت عوامیت پسند ہے، جس نے جہاز میں حاملہ خواتین، اور سینکڑوں بچوں سمیت 629 افراد ہونے کے باوجود بحری جہاز کو لنگز انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد اطالوی اور فرانسیسی حکومت کے درمیان کشیدگی ہوئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں