The news is by your side.

Advertisement

بھارتی موسیقار اے آر رحمان نے اپنے خلاف جاری فتویٰ کا جواب دیدیا

ممبئی: بھارتی موسیقار اے آر رحمان نے اپنے خلاف جاری فتویٰ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلم محمد میسنجر آف گاڈ‘ میں موسیقی دینے کا فیصلہ نیک نیتی سے کیا تھا۔

اے آر رحمان آج کل ایک ایرانی فلم میں موسیقی دینے پر مشکل میں پھنس گئے ہیں، یہ فلم  پیغمبرِ اسلام کی زندگی پر مبنی ہے۔

 اے آر رحمان نے جواب اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا، جس میں انکا کہنا تھا کہ میں اسلام کا عالم نہیں ہوں، میں مغرب اور مشرق دونوں کی ثقافت کو جیتا ہوں اور تمام لوگوں سے جیسے وہ ہیں، ویسے ہی محبت کرتا ہوں، نہ تو میں نے فلم بنائی ہے اور نہ ہی اس کی ہدایتکاری کی ہے، صرف موسیقی دی ہے۔

اے آر رحمان نے کہا کہ میں نے اچھی نیت کے ساتھ اس فلم میں موسیقی دینے کا فیصلہ کیا تھا، میرا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔

یاد رہے کہ ممبئی میں واقع سنی گروپ کی رضا اکیڈمی سے تعلق رکھنے والے مولانا حضرات کیجانب سے موسیقار اے آر رحمان اور فلمساز ماجد مجیدی کے خلاف فتویٰ دیا گیا تھا، فتویٰ پیغمبر اسلام کی زندگی پر مبنی فلم بنانے کی وجہ سے لگایا گیا۔

 فتوی میں کہا گیا تھا کہ فلمساز ماجد مجیدی اور موسیقار اے آر رحمان اسلام کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لئے انکا ایمان اور نکاح دونوں فسخ ہوچکے ہیں ، لہذا انھیں دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے دوبارہ کلمہ پڑھنا اور نکاح کرنا چاہیے۔

فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ  کا فرمان ہے کہ تصویر کشی اسلام میں حرام ہے۔

انکا کہنا ہے کہ فلمساز نے پیغمبر اسلام کی زندگی پر فلم بنا کر اسلام کا مذاق اڑایا ہے، علاوہ ازیں فلم کے اہم کرداروں میں غیرمسلم اداکاروں کو شامل کیا گیا ہے جو قابل مذمت ہے، مذہبی گروپ کی جانب سے بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ اور مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ کو فتویٰ پر عملدرآمد کرانے کا حکم جاری کرنے کے لئے خط لکھا گیا۔

اس فلم کے ہدایتکار ایران کے ماجد مجيدي ہیں اور یہ ایران میں بننے والی یہ اب تک کی سب سے مہنگی فلم ہے ، موسیقار اے آر رحمان نے فلم محمدؐ کی پس پردہ موسیقی ترتیب دی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں