جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

عین الشمس اور غلام کا مستقبل(عربی لوک داستان)

اشتہار

حیرت انگیز

عربوں میں مستقبل کا حال معلوم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مٹھی بھر ریت لے کر اسے بکھیرتے ہیں اور اس سے جو نقشا بنتا ہے اس میں تعبیر ڈھونڈتے ہیں۔

ایک مالدار تاجر کا انتقال ہوا تو اس کی بیوی کو بڑی فکر لاحق ہوئی کہ اس کی اکلوتی لڑکی کی شادی کس سے ہوگی۔ اسے جیوتش کا یہ قدیم طریقہ معلوم تھا۔ اس نے ریت بکھیری اور تعبیر دیکھی تو پتا چلا کہ اس کی لڑکی کی شادی ان کے غلام سے ہوگی۔ وہ یہ جان کر گھبرا گئی کہ اتنے مالدار باپ کی بیٹی کا یہ مقدر کیوں کر ہوسکتا ہے۔ اس نے دوسری بار اسی طریقے سے لڑکی کے مستقبل کا حال جاننے کی کوشش کی تو پھر وہی جو اب آیا۔

"اپنی اتنی پیاری لڑکی کی شادی میں اس کالے غلام سے کیسے کر دوں۔” اس نے سوچا کہ اسے اس غلام سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔ اس نے غلام کو بلایا اور کہا کہ تم عین الشمس (سورج کی آنکھ) کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ میری مالکہ نے پوچھا ہے کہ ان کی لڑکی کی شادی کس سے ہوگی۔

"جو حکم مالکن” غلام نے کہا۔ اب اسے سفر کا سامان اور کچھ زادِ راہ دے کر روانہ کر دیا گیا۔ عین الشمس کہاں رہتا ہے اور اس تک کون سا راستہ جاتا ہے، غلام کو معلوم نہ تھا مگر وہ بس چلتا رہا۔ چلتے چلتے اسے ایک چرواہا ملا۔ اس نے پوچھا، "تم کہاں جا رہے ہو؟” غلام نے جواب دیا، "عین الشمس کے پاس۔ میری مالکن نے کہا ہے کہ ان سے پوچھنا کہ ان کی لڑکی کی شادی کس خوش نصیب کے ساتھ ہوگی۔”

"اوہ۔” چرواہے نے کہا، "تم اس سے ملو تو پوچھنا کہ ہم کب تک بھیڑیں چراتے رہیں گے۔” غلام نے اثبات میں‌ سر ہلایا اور آگے بڑھ گیا۔

بہت دنوں تک وہ چلتا رہا، یہاں تک کہ اسے کھیتوں کا ایک بہت طویل سلسلہ نظر آیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک کسان کھیت میں ہل چلا رہا ہے۔ سلام میں‌ پہل کرتے ہوئے کسان نے بھی اس سے وہی سوال کیا جو چرواہے نے کیا تھا۔

"عین الشمس کے پاس۔ میری مالکن نے حکم دیا ہے کہ میں اس سے پوچھوں کہ ان کی لڑکی کی شادی کس خوش نصیب کے ساتھ ہوگی۔”

کسان نے یہ سن کر غلام سے کہا، "بھائی اس سے یہ بھی پوچھنا کہ ہم آخر کب تک ہری اور زرد فصل کاٹتے رہیں گے۔”

"ضرور پوچھوں‌ گا۔” غلام نے کسان کو جواب دیا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ بہت دنوں تک چلتا رہا یہاں تک کہ ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں سامنے سمندر تھا۔ اس کا اور چھور کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ایک مچھلی سطح پر تیر رہی تھی۔ اس نے بھی غلام سے وہی دریافت کیا جو چرواہا اور کسان نے دریافت کیا تھا۔ غلام نے مچھلی کو بھی ساری بات بتا دی جیسے چرواہے اور کسان کو بتائی تھی۔ مگر اس مچھلی نے ان دونوں کی طرح صرف اپنا مدعا بیان نہیں کردیا بلکہ غلام سے پوچھا، ـتم وہاں پہنچو گے کیسے؟

’’یہ تو مجھے نہیں معلوم۔‘‘ غلام نے جواب دیا۔

’’میں تمھیں لے جاؤں گی۔‘‘ مچھلی نے کہا۔ ’’مگر جب تم عین شمس سے ملو تو اس سے پوچھنا کہ جو مچھلی مجھے لائی ہے، وہ سطح پر کیوں تیرتی ہے۔‘‘

’’ضرور۔‘‘ غلام نے جواب دیا۔ اب مچھلی نے غلام کو اپنی پیٹھ پر سوار کر لیا۔ کئی دن رات سفر کے بعد آخر سمندر کا کنارہ نظر آیا۔ مچھلی نے غلام کو ساحل پر اتار دیا اور کہا، ’’میں تمھارا یہیں انتظار کروں گی۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘ غلام نے کہا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ چلتا رہا، چلتا رہا یہاں تک کہ عین الشمس تک پہنچ گیا۔ اس نے پہلا سوال عین الشمس سے وہی کیا جو اس کی مالکہ نے کہا تھا۔

’’جناب میری مالکہ نے پوچھا ہے کہ ان کی لڑکی کی شادی کس خوش نصیب سے ہو گی۔‘‘

’’تم سے اور صرف تم سے۔‘‘ عین الشمس نے جواب دیا۔

پھر اس غلام نے چرواہے کا سوال عین الشمس کے سامنے رکھا۔ جواب ملا وہ دن اور رات کا گلہ بان ہے، جب تک وقت کا چکر ختم نہیں ہوتا۔ اسے بھیڑیں چرانی پڑیں گی۔

اب غلام نے کسان کا سوال پوچھا۔ جواب ملا، ’’وہی بچوں اور بوڑھوں کے لیے موت لاتا ہے۔ ہری فصلیں بچؑے اور نادان انسان ہیں اور پکی فصلیں بوڑھے جن کے بال سفید ہو گئے۔‘‘ اب غلام نے مچھلی کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ وہ سطح پر ہی کیوں تیرتی ہے، نیچے کیوں نہیں جاتی۔

عین الشمس نے اسے کہا، ’’جب تم اس مچھلی پر سوار ہو کر دوسرے کنارے پہنچ جاؤ تو اس کی پشت کو تھپتھپانا۔ وہ اپنے منہ سے اخروٹ جتنا ایک بڑا ہیرا اگلے گی، اس کے بعد وہ سطح کے نیچے اپنے ہمجولیوں سے مل سکے گی۔ ہیرا تم لے لینا، وہ تمھارا انعام ہے۔ راستے میں دائیں اور بائیں طرف تمھیں پتھر کے دو حوض ملیں گے۔ ایک میں خزانہ ہے اور دوسرے میں پانی۔ خزانہ تم لے لینا اور پانی میں نہاؤ گے تو تمھارا رنگ سفید ہو جائے گا۔‘‘

غلام واپس ہوا۔ مچھلی اس کی منتظر تھی۔ غلام اس کی پیٹھ پر سوار ہوکر سمندر پار دوسری جانب اتر گیا۔ غلام نے عین الشمس کی ہدایت کے مطابق اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور ہیرا حاصل کرکے آگے چل دیا۔ اسے پتھر کے دو حوض ملے۔ ایک میں پانی تھا اور دوسرے میں خزانہ۔ پانی میں اتر کر غلام نے غسل کیا تو اس کا رنگ میدے کی طرح سفید ہو گیا۔ اس نے سارا خزانہ ایک سو اونٹوں پر لدوایا اور چل پڑا۔ وہ چلتا رہا، چلتا رہا یہاں تک کہ اس کی ملاقات کسان سے ہوئی۔ اس نے کسان کو عین الشمس کا جواب بتایا اور آگے بڑھا۔ چلتا رہا، چلتا رہا یہاں تک کہ اس کی ملاقات چرواہے سے ہوئی جسے اس کے سوال کا جواب دے کر چل پڑا اور اپنے شہر پہنچ گیا۔ لوگوں نے ایک سو اونٹوں کے قافلے کو حیرت سے دیکھا۔ شان دار ملبوس اور ایک سو ایک اونٹوں کا قافلہ مکان کے باہر کھڑا کر کے جب وہ غلام اندر داخل ہوا تو اس کی مالکن نے اسے نہیں پہچانا۔ اس عورت نے خیال کیا کہ شاید یہ میرے شوہر کے بھائی کا لڑکا ہے اور میرے شوہر کی موت کی اطلاع پا کر پرسے کو آیا ہے۔ اور میری بیٹی کا چچا زاد ہے۔ میری لڑکی پر اس سے بڑھ کر حق کس کا ہو سکتا ہے۔

اسی غلط فہمی میں اس نے کچھ پوچھے اور جانے بغیر غلام کی آؤ بھگت شروع کردی اور غلام بھی خاموش رہا۔ کچھ پہر خاطر تواضع میں گزر گئے۔ غلام کو اس کی مالکن ابھی تک نہیں پہچان سکی تھی۔ اس نے غلام کو کہا، ’’میں اپنی لڑکی کی شادی تم سے کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’جیسے آپ کی مرضی۔‘‘ غلام نے جواب دیا۔ شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ مہمانوں کو دعوت دی گئی اور بڑے دھوم دھام سے نکاح ہوا۔ شادی کے بعد جب غلام اپنی دلہن کے ساتھ بڑے اور شان دار گھر کے کمرے میں پہنچا تو ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ اس کی بیوی نے دھیمی آواز میں کہا۔ ’’آپ بیٹھتے کیوں نہیں؟‘‘

غلام جو اب مالدار آدمی بن چکا تھا اور اس کی رنگت بھی سیاہ نہیں رہی تھی، اس نے جواب دیا، ’’خادم آپ کا غلام ہے، آپ کی والدہ میری مالکن ہیں، اور آپ کے والد مرحوم کا میں نے نمک کھایا ہے، میں ان کا وفادار غلام ہوں۔ آپ کی اجازت کے بغیر بیٹھنے کی گستاخی کیسے کر سکتا ہوں۔‘‘

دلہن کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے کریدا تو غلام نے سارا ماجرا روبرو رکھ دیا۔ دلہن یہ جان کر حیران بھی ہوئی اور پھر بہت ہنسی۔ اس نے کہا، ’’دیکھو خدا نے میری قسمت بنائی اور بہت شان دار بنائی، اس کا لاکھ لاکھ شکر ہے مگر یہ بات جو تم نے مجھے بتا دی ہے، اب کسی اور سے نہ کہنا۔ اب تم میرے آقا ہو اور میں باندی کی طرح تمھاری طاعت گزار رہوں گی۔ تمھاری خوشی میں اب میری خوشی ہے۔‘‘

(عرب دنیا کی لوک کہانیوں سے ماخوذ)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں