The news is by your side.

Advertisement

چرواہے کی دانش مندی

کچھ لوگ ایک گمشدہ اونٹ کو تلاش کرتے ہوئے جب ایک نخلستان سے گزرے تو وہاں‌ انہیں وہاں ایک بوڑھا چرواہا ملا۔

انہوں نے اس سے کہا۔ ’’بھائی ہمارا اونٹ یہاں چر رہا تھا۔ کیا تم نے دیکھا ہے؟‘‘

چرواہے نے پوچھا۔ ’’کیا تمہارا اونٹ بائیں آنکھ سے کانا ہے؟‘‘

’’ہاں!‘‘

’’کیا وہ ایک پیر سے لنگڑا ہے؟‘‘

’’ہاں ۔۔۔ ہاں!!‘‘

’’کیا اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹے ہوئے ہیں؟‘‘

’’ہاں، ہاں۔۔۔بتاؤ وہ کہاں ہے؟‘‘

’’میں نے اسے نہیں دیکھا۔‘‘

ان لوگوں کو چرواہے کی بات کا یقین نہیں آیا۔ کیوں کہ وہ ان کے اونٹ کی جو نشانیاں بتا رہا تھا، وہ بالکل درست تھیں۔ انہیں‌ یقین تھا کہ اس نے ان کے اونٹ کو دیکھا ہے یا وہ یہ جانتا ہے کہ اونٹ کہاں‌ ہے مگر اب بتانا نہیں‌ چاہتا۔ چنانچہ وہ اسے پکڑ کر قاضی کے پاس لے گئے اور سارا ماجرا کہا۔ قاضی صاحب نے بھی حیرت سے پوچھا ۔

’’جب تم نے اونٹ نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں اتنی باتیں کیسے بتا دیں؟‘‘

چرواہے نے جواب دیا۔ ’’حضور اونٹ نے دائیں طرف کی گھاس کھائی تھی اور بائیں جانب کی چھوڑ دی تھی۔ اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ بائیں آنکھ سے محروم تھا۔ پھر جہاں اس نے گھاس کھائی تھی وہاں تھوڑی تھوڑی گھاس رہ گئی تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے دو دانت ٹوٹے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ اس کے چاروں پیروں کے نشانات میں سے ایک پاؤں کا نشان ہلکا تھا جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لنگڑا تھا۔

(مشہور عربی لوک کہانی کا اردو ترجمہ)

Comments

یہ بھی پڑھیں