بھنبھوریا دیبل: ماہرینِ آثارقدیمہ نے کھدائی شروع کردی -
The news is by your side.

Advertisement

بھنبھوریا دیبل: ماہرینِ آثارقدیمہ نے کھدائی شروع کردی

ٹھٹھہ: سندھ کے تاریخی مقام بھنبھور کی دوبارہ کھدائی کے لیے غیر ملکی ماہرین آرکیالوجی کی وفد بھنبھور پہنچ گیا، بھنبھور کو برصغیر کا باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے تاریخی مقام بھنبھور کی دوبارہ کھدائی کے لیے ملکی اور غیرملکی ماہرین آرکیالوجی کی ٹیمیں بھنبھور پہنچ گئی ہیں جدید ڈرون کیمروں کی مدد سے علاقے کی منظر کشی کی جا رہی ہے۔

آثارِ قدیمہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ماہرین کی نگرانی میں کھدائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اٹلی کے ماہرین جنوری میں کھدائی کا آغاز کریں گے، آرکیالوجی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اعجاز احمد نے بتایا کہ بھنبھور صدیوں پرانا قدیم تاریخی مقام ہے جس کی کھدائی ضروری ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھدائی کے دوران قیمتی نواردات و اشیاء ملنے کا امکان ہے یہاں سے ملنے والی قیمتی نادر نواردات و اشیاء کو بھنبھور میوزیم میں رکھا جائے گا تاکہ میوزیم کی رونق میں اضافہ ہو ۔غیرملکی ٹیم بھی علاقے کا جائزہ لے رہی ہے اور وہ بھی جلد کھدائی کا کام شروع کریں گے۔

بھنبھور کی ایک شناخت رومانوی داستان سسی پنوں بھی ہے۔ اس قدیم شہر کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ سمندر کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ یہ شہر بنتا اور بگڑتا رہا اور اسی کے ساتھ یہاں کے لوگوں کا کاروبار بھی جڑا رہا ہے۔

سابقہ کھدائی کے دوران یہاں سے ٹیرا کوٹا کے کچھ ٹکڑے یا ٹھیکریاں بھی دریافت ہوئی ہیں جن کی پیمائش اور سائنسی مشاہدہ بھی کیا جا رہا ہے، جو اس سے پہلے نہیں کیا گیا تھا آخری بار یہاں2015 میں کھدائی کی گئی تھی۔

پاکستان کے اکثر مورخین متفق ہیں کہ بھنبھور ہی دیبل نامی وہ بندرگاہ تھا جہاں عرب سپہ سالار محمد بن قاسم حملہ آور ہوا تھا، اسی نسبت سے یہا ں موجود مسجد کو برصغیر کی پہلی مسجد اور اس شہر کو باب الاسلام بھی قراردیا جاتا ہے ۔ تاہم کچھ مورخین بھنبھور کی اس شناخت سے اختلاف بھی رکھتے ہیں اور اس کے حق میں کچھ مضبوط دلائل بھی رکھتے ہیں ۔حالیہ کھدائی کا ایک مقصد بھنبھور اور دیبل کا تنازعہ بھی حل کرنا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں