The news is by your side.

Advertisement

کیا ہماری یہ عادات واقعی اچھی ہیں؟

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی صحت کا خیال رکھنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کیا جاتا، تاہم ایسے باشعور اور پڑھے لکھے افراد بھی ہمارے ارد گرد ملتے ہیں جو اپنی صحت کے حوالے سے متفکر رہتے ہیں، اور وہ صحت کو برقرار رکھنے کے لیے کچھ اچھی عادتیں بھی اپنا لیتے ہیں۔

ان عادات میں سے کچھ بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں، جیسا کہ پھل ہمیشہ دھو کر کھانے کی عادت یا پھر ورزش کرنا، اپنے اعصاب کو ہمیشہ پُر سکون رکھنا، غصے سے اجتناب کرنا، اور الم غلم خوراک سے پرہیز وغیرہ۔

تاہم، کچھ عادتیں ایسی بھی ہیں جن پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے، ان میں سے 7 ایسی عام عادتیں ہیں، جن کا کوئی خاص فائدہ نہیں، اور جنھیں لوگ بہ آسانی چھوڑ سکتے ہیں۔

1۔ ملٹی وٹامنز کا استعمال

امریکا میں سائنس دانوں نے ساڑھے 4 لاکھ سے زیادہ افراد پر طبّی تجربات کے بعد اخذ کیا کہ ملٹی وٹامنز اور تمام اقسام کی bio-additives نہ ہی آپ کو مختلف بیماریوں سے بچا سکتی ہیں اور نہ آپ کی یادداشت یا کام کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ یہ طبی مطالعے بھی کیے جا چکے ہیں کہ روزانہ ملٹی وٹامنز لینے سے صحت پر الٹا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

2۔ الکحل سے پاک ہینڈ سینیٹائزرز کا استعمال

جراثیم کُش ہینڈ جیلز کئی قسم کے جراثیم کا خاتمہ کرنے میں مدد دیتے ہیں لیکن ایسا صرف ان جیلز سے ہو سکتا ہے جن میں الکحل کی مقدار 60 فی صد سے کم نہ ہو۔ دیگر ہینڈ سینیٹائزرز کسی بھی قسم کے جراثیم کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔

3۔ مونو سوڈیم گلوٹیمٹ سے گریز

تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ مونو سوڈیم گلوٹیمٹ (MSG) سے قے اور سر درد جیسی علامات انسانوں میں صرف اسی وقت ظاہر ہوتی ہیں جب اسے خالص شکل میں کم از کم 3 گرام استعمال کیا جائے۔ اب کسی بھی چیز میں آپ کو Monosodium glutamate کی اتنی زیادہ مقدار تو بہ مشکل ملے گی، ویسے بھی جن مصنوعات میں MSG شامل ہوتا ہے، وہ ویسے بھی آپ کے لیے اچھی نہیں ہوتیں، چاہے ان میں ‏MSG نہ ہو تب بھی۔

4۔ڈیٹوکس ڈائٹ

ڈیٹوکس ڈائٹ اس وقت بہت تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، اس کے حوالے سے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ یہ جسم میں موجود زہریلے مادّوں کا خاتمہ کرتی ہے، لیکن ماہرین کا اتفاق ہے کہ جسم ایسے مادّوں سے خود اپنے بل بوتے پر نمٹ سکتا ہے۔ اگر آپ کا جگر اور گردے ٹھیک کام نہیں کر رہے تو آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے، صرف خوراک میں تبدیلی سے کام نہیں چلے گا۔

5۔ نامیاتی مصنوعات کا استعمال

پاکستان جیسے ملک میں قانوناً کسی نامیاتی (organic) پروڈکٹ کو نشان زد کرنا لازمی نہیں، یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کو کسی پروڈکٹ پر ’eco‘ یا ’bio‘ لکھا نظر آئے تو یاد رکھیں کہ یہ محض مارکیٹنگ کا ایک طریقہ ہے، اس بات کی ضمانت نہیں کہ کھانے کی یہ پروڈکٹ کیمیائی مادّوں کے استعمال کے بغیر بنائی گئی ہے۔

6۔ مائیکرو ویوز کا استعمال نہ کرنا

کہا جاتا ہے کہ کھانا گرم کرنے کے لیے مائیکرو ویوز کا استعمال ان میں موجود غذائیت کا خاتمہ کر دیتا ہے، لیکن یاد رکھیں کہ اوون یا چولہے پر کھانا گرم کرنے سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

7۔ صرف کم چکنائی کی حامل مصنوعات کا استعمال

نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) اور لحمیات (پروٹینز) کی طرح ہمارے جسم کو چکنائی (فیٹس) کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے عام مصنوعات کی جگہ صرف لو-فیٹ پروڈکٹس استعمال کرنا ہی کیلوریز کم کرنے کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ پھر کئی مصنوعات ایسی ہیں کہ جن میں لو-فیٹ صلاحیت دراصل شوگر کونٹینٹ بڑھا کر حاصل کی جاتی جاتا ہے، جو صحت کے لیے ویسے ہی نقصان دہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں