The news is by your side.

Advertisement

ارجنٹائن کی پولیس نے چوہوں پربھنگ کھانے کا الزام عائد کردیا

بیونس آئرس : ارجنٹائن کی عدالت نے چوہوں پر بھنگ کھانے کا الزام عائد کرنے پر پولیس کمشنر سمیت آٹھ اعلیٰ افسران کو برطرف کرکے 540 کلو منشیات گمشدگی کی تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لاطینی امریکا کے ملک ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس پولیس افسران نے دعویٰ کیا ہے پولیس ہیڈکوارٹر کے گودام میں محفوظ کی گئی 6000 کلو منشیات میں سے 540 کلو بھنگ چوہے کھا گئے۔

شہر کے سابق پولیس کمشنر جاویئرسمیت آٹھ پولیس افسران کو 540 کلو گرام منشیات کے غائب ہونے کا الزام چوہوں پر عائد کرنے پر معطل کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

سابق پولیس کمشنر جاویئر نے مقامی عدالت میں جج کے سامنے مؤقف اختیار کیا تھا کہ غائب شدہ منشیات کسی نے چوری نہیں کی بلکہ چوہوں نے کھائی ہے۔ تفتیس کاروں نے پولیس گودام سے 5،460 کلو گرام منشیات برآمد کی ہے۔

بیونس یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ’چوہے اگر بھنگ کو خوراک سمجھ کر کھالیتے تو پولیس اہکاروں کو گودام میں ان کی لاشیں نظر آتیں‘، پولیس افسران کے بیان پر حیرانگی ہے کہ انہوں نے ایسی احمقانہ بات کہی ہے۔

منشیات گمشدگی کی سماعت کے دوران جج ایڈرائن گونزالویز کا کہنا تھا کہ ’چوہے کبھی بھی منشیات کو خوراک کے طور پر نہیں کھا سکتے، وہ بھی اتنی زیادہ مقدار میں ہرگز نہیں اور اگر ایسا ہوتا تو چوہے گودام میں مردہ حالت میں پائے جاتے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برس قبل محفوظ کی گئی 6000 کلو گرام منشیات کا پولیس گودام سے بھاری مقدار میں غائب ہونا افسران اور ہلکاروں کی ’غفلت اور لاپرواہی‘ کا نتیجہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ جاویئر کی برطرفی کے بعد تعینات کیے گئے پولیس کمشنر ایمیلیو پورٹیرو کو عہدہ سنبھالنے کے کچھ روز بعد ہی بڑی مقدار میں منشیات کی گمشدگی کا علم ہوگیا تھا۔


دلکش اور سنہرے رنگ کا سانپ منظرعام پر آگیا، ویڈیو وائرل


جس کے بعد پولیس کمنشر نے اہلکاروں کو گودام کی تلاشی لینے کا حکم دیا، پولیس گودام کی تلاشی کے دوران افسران کو5،460 کلومنشیات برآمد ہوئی۔

ایمیلیو پورٹیرو نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ منشیات کی گمشدگی میں سابق کمشنر جاویئر ملوث ہیں، کیوں کہ انہوں نے اپریل 2017 میں عہدہ چھوڑتے ہوئے ڈرگز کی فہرست پر دستخط نہیں کیے تھے۔

واضح رہے کہ سابق پولیس کمشنر کے خلاف پہلے ہی اپنی آمدنی کے ذرائع چھپانے پر تحقیقات جاری تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں