کراچی (2 دسمبر 2025): سابق صدر عارف علوی اور فیملی ممبران کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیس کی سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے پر برہمی کا اظہار کیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں عارف علوی اور 12 فیملی ممبران کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر سابق صدر کے بیٹے اور بہو پیش ہوئے۔
عدالت نے این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر کو درخواست گزاروں کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے دونوں کے بیان کے بعد ایک ہفتے میں پیشرفت رپورٹ طلب کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: عارف علوی کو اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی اجازت مل گئی
سندھ ہائیکورٹ نے مذہبی منافرت کے الزامات کے تحت ازخود کارروائی کرنے پر این سی سی آئی اے پر اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے ایسا کیا کیا تھا کہ جس پر تحقیقات شروع کی گئی؟
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار عارف علوی سابق صدر ہیں جنہوں نے قابلِ اعتراض بیان دیا، ویڈیو وائرل ہونے اور عوامی ردعمل کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔
جسٹس مبین لاکھو نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے تحریری طور پر شکایت درج کروائی؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ کسی نے شکایت نہیں، عوامی ردعمل پر ازخود کارروائی کی۔
عدالت نے کہا کہ کیا بیان اتنا خوفناک تھا کہ لوگوں کی چیخ و پکار این سی سی آئی اے تک پہنچی اور ازخود کا اختیار استعمال کیا، پوری فیملی کے اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے گئے، کیا بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ یا فنانشل ٹیررازم ہو رہی تھی؟ ہمیں قانون بتائیں کس قانون کے تحت ان کے بینک اکاؤنٹس بند کیے؟ کیا درخواست گزار کسی قسم کی ٹرانزیکشن نہیں کر سکتے؟
اس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ بینک اکاؤنٹس میں پیسے جمع ہو سکتے ہیں لیکن نکالے نہیں جا سکتے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سب کے بینک اکاؤنٹس بلاک ہیں تو روزمرہ کے اخراجات کیسے چلاتے ہوں گے؟ این سی سی آئی اے بغیر شکایت کے کسی کے خلاف کیسے انکوائری کر سکتا ہے؟ عدالت میں اتنی بڑی تقریر کر رہے ہیں ہمیں قانون بتائیں جس کے تحت اکاؤنٹس بلاک کیے گئے۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ درخواست گزار ملک سے باہر ہیں اور نوٹس کے باوجود بیان ریکارڈ کروانے کیلیے پیش نہیں ہو رہے۔
اس پر درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے کہا کہ درخواست گزار کا بیٹا اور بہو عدالت میں موجود ہیں جو اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں، ڈاکٹر عارف علوی اور ان کی اہلیہ اس وقت دبئی میں ہیں، قانون ان کو استثنیٰ دیتا ہے لیکن وہ کسی قسم کا استثنیٰ نہیں چاہتے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عارف علوی کے کلینک سے حاصل آمدنی اکاؤنٹس میں آتی ہے جو استعمال نہیں کر سکتے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


