The news is by your side.

Advertisement

کشمیریوں کے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے، صدرِ پاکستان

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ تھے، ہیں اور ساتھ رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ کے ارکان، غیرملکی سفارت کار سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

پرچم کشائی کی مرکزی کی تقریب میں اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک تھے۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کنونشن سینٹر میں قومی پرچم لہرایا اور اس موقع پر قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔ بعدازاں تقریب کا باقاعدہ آغاز قرآن پاک کی تلاوت اور نعت رسول ﷺ سے ہوا۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوری قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن قومی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ سبزہلالی پرچم تا قیامت یوں ہی لہراتا رہے، یہ پرچم امن وخوشحالی کی کرنیں ہرآنگن میں بکھیرتا رہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ تھے، ہیں اور ساتھ رہیں گے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم نے بھارت سے اپنے سفارتی تعلقات میں کمی کی ہے، ہم نے بھارت سے اپنے تجارتی تعلقات معطل کیے ہیں۔

صدر پاکستان نے بھارت کی طرف سے اٹھائے گئے غیرمنصفانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیرعالمی سطح پرتسلیم شدہ تنازعہ ہے، طے ہوا تھا کہ مسئلہ کشمیرکو مذاکرات سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طے ہوا تھا کہ کوئی بھی ملک کشمیرکی حیثیت کو تبدیل نہیں کرے گا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارتی اقدام شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے، نہرونے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیرکوکشمیریوں کی رائے سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیکولرمعاشرے کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، 2 قومی نظریے پرتنقید کرنے والے اب اپنی غلطی تسلیم کر رہے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں سے سلوک نے اس کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کردیا، 9 لاکھ فوج کے باعث مقبوضہ کشمیردنیا میں سب سے بڑا ملٹری زون بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت انٹرنیٹ اور فون سروس بندش جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو ختم کرے اور کشمیری قیادت کو رہا کرے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں رہنے والوں کی بنیادی آزادی بحال کرے۔

صدر پاکستان نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے خطے کے امن واستحکام کو خطرہ ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر فوجی جبر اور تشدد کو بند کرے، بھارت ہماری امن پسندی کوہماری کمزوری نہ سمجھے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اگرجنگ مسلط کی گئی تو یہ جنگ چند گھنٹوں کی نہیں ہوگی، پوری دنیا اس جنگ کے اثرات محسوس کرے گی، بھارت حالات کواس نہج پرنہ لے جائے کہ واپسی ممکن نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی اور جبر کا راستہ ترک کرے، بھارت یہ بات نہ بھولے کے مسئلہ کشمیرکے 3 فریق ہیں۔

صدر پاکستان نے کہا کہ پاکستان پوری تگ ودو سے کشمیرکے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا، کشمیری کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیرکا مقدمہ ہرفورم پربھرپورطریقے سے لڑتا رہے گا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کی حفاظت پرمامور افواج پاکستان کوخراج تحسین اور پاکستان کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہدا اور اہلخانہ کو سلام پیش کیا۔

اس سے قبل پرچم کشائی کی تقریب سے حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تاریخی نسل کشی کر رہا ہے اور بھارتی فوج نے حریت قیادت کو قید کر رکھا ہے۔

ملک بھرمیں یوم آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے

واضح رہے کہ ملک بھر میں یوم آزادی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ یوم آزادی پر دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم آزادی کے دن کا آغاز 31 توپوں جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ اس موقع پر ملک کی سلامتی اور یکجہتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں