The news is by your side.

Advertisement

آرمینیا کی فوج کو پسپائی کا مزا چکھا کر دم لیں گے: آذربائیجان

باکو: آذربائیجان نے کہا ہے کہ وہ آرمینیا کی فوج کو پسپائی کا مزا چکھا کر دم لیں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق آذر بائیجان نے متنازعہ علاقے کازباخ سے آرمینیا کی فوج کی مکمل پسائی تک فوجی کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علی اف نے کہا ہے کہ ہماری صرف ایک شرط ہے کہ آرمینیا کی مسلح افواج غیر مشروط، مکمل اور فوری طور پر ہماری سرزمین خالی کر دیں۔

آذربائیجان کے صدر نے کہا اگر آرمینیا کی حکومت مکمل انخلا کے ہمارے مطالبے کو پورا کرتی ہے تو جنگ اور خوں ریزی ختم ہو جائے گی اور خطے میں امن قائم ہوگا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آذربائیجان کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ باکو اپنے علاقے میں مسلط کی گئی جارحیت کے خاتمے، مکمل خود مختاری کے حصول اور امن کی بحالی تک جوابی وار جاری رکھے گا۔

ادھر دونوں ممالک مذاکرات کے لیے پڑنے والے دباؤ کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جاری تنازع کب شروع ہوا؟

واضح رہے کہ مسلم اکثریتی ملک آذربائیجان اور عیسائی اکثریتی ملک آرمینیا کے مابین ہونے والی جھڑپیں 1918 سے جاری تنازعے کی وجہ سے ہیں۔ ان وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی سوویت یونین سے جڑی ہوئی ہے، ماضی میں نگورنو کاراباخ کے تنازعے پر دونوں ممالک میں جھڑپیں ہو چکی ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے۔

نگورنو کاراباخ کے علاقے کو سوویت حکمرانوں نے 1923 میں آذربائیجان کا حصّہ بنا دیا تھا تاہم جیسے ہی سوویت یونین کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی، آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین مذکورہ خطے پر حکمرانی کے لیے جنگ شروع ہوگئی۔

دونوں ممالک کے درمیان 1988 سے 1994 تک ہونے والی 6 سالہ خوں ریز جنگ کے دوران 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے باعث نگورنو کاراباخ کے مکینوں نے ہجرت کرنا شروع کر دی تھی۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نگورنو کاراباخ ریجن کے معاملے پر 12 جولائی 2020 سے کشیدگی جاری ہے، یہ بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے لوگوں کے پاس ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین نگورنو کاراباخ کے متنازعہ علاقے میں شدید جھڑپیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں اب تک 100 کے قریب سویلین و فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ سیکڑوں زخمی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں