The news is by your side.

Advertisement

ترک صدر نے پابندی کی دھمکیاں مسترد کردیں، فوجی آپریشن جاری رکھنے کا عزم

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے عالمی دباؤ اور پابندی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے شام میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح کیا ہے کہ شام میں ترک فوجی آپریشن کو دھمکیوں کے ذریعے نہیں ختم کیا جاسکتا، کرد جنجگوؤں کے خاتمے کے لیے مشن جاری رہے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سرکاری ٹی وی کے ذریعے اپنے خطاب میں ترک صدر نے متنبہ کیا کہ جو سمجھتے ہیں اس طرح کی حکمت عملی سے آپریشن رک جائے گا تو یہ ان کی بھول ہے۔

رجب طیب اردوان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا کہ جب فرانس اور جرمنی نے اسلحہ اور جنگی ساز وسان کی فروخت ترکی کو روک دی۔ ردعمل میں ترک حکام نے بھی سخت موقف اختیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے میرا ٹیلی فونک رابطہ ہوا، اس دوران شام میں جاری آپریشن اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک صدر نے بتایا کہ جرمن چانسلر نے فریقین کے درمیان ثالثی کی بھی کی پیش کی جو مسترد کردی گئی۔

ترک فوج کا شام میں آپریشن، مقامی سیاست دان سمیت 10 شہری ہلاک

یاد رہے کہ ترک فوج کا شام میں 20 میل تک سیف زون بنانے کے لیے فوجی آپریشن جاری ہے، گذشتہ دنوں ایک غلطی کے نتیجے میں امریکی فوجی مورچے کے قریب گولہ باری ہوئی جہاں درجنوں اہلکار تعینات تھے۔

بعد ازاں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ترک فوج نے شامی سرحدی شہر کوبانی میں توپ خانے سے گولاباری کی، فائر کیے گئے چند گولے امریکی دستوں کے قریب گرے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں