The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی ترقیاتی کونسل کا اجلاس، بلوچستان سے متعلق اہم فیصلے

حب میں خصوصی اکنامک زون اور نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کےقیام کی منظوری

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت آج قومی ترقیاتی کونسل کا اہم اجلاس ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی، سیکریٹری خارجہ اورکمانڈرسدرن کمانڈ بھی اجلاس میں موجود تھے.

قومی ترقیاتی کونسل کے اجلاس میں وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، رزاق داؤد، خسرو بختیار بھی شریک ہوئے.  کونسل اراکین نےخطے میں پاکستان کے کردار، ترقیاتی امورکا جائزہ لیا۔

قومی ترقیاتی کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوگیا ہے، جس کے مطابق اجلاس میں بلوچستان ترقیاتی منصوبوں،گوادر ماسٹرپلان، سی پیک اتھارٹی کےقیام پرغور کیا گیا۔ ترقیاتی پلان 20-2019اور فاٹا انضمام سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

کونسل ارکان کو بلوچستان کےترقیاتی منصوبوں پربریفنگ دی گئی، صوبےمیں سیکیورٹی معاملات مزید بہتر بنانے کےاقدامات پر غور  کیا گیا،  بارڈر مینجمنٹ، ریاستی رٹ بہتر بنانے، سماجی ومعاشی بہتری کےمعاملات زیر بحث آئے۔

ارکان کو بریفنگ دی گئی کہ  ماضی میں صوبےکوبری طرح نظر اندازکیاگیا، سیکیورٹی چیلنجز، وسائل کے ناجائز استعمال کے باعث صوبہ پس ماندہ ہوا، صوبےکےکل ترقیاتی بجٹ کا45 فیصد جان بوجھ کر ضائع کیاگیا۔

 کونسل نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پرکام تیزکرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے مطابق 9 سال صوبے کے بجٹ میں اضافہ، پسماندگی کم کرنےکے اقدامات ہوں گے، صوبےکےخسارےکم اورآمدنی میں اضافہ کیاجائےگا، صوبےکے مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچےکو بہترکیا جائے گا۔

اعلامیہ کے مطابق ایم 8 موٹر وے پراجیکٹ فوری مکمل کیا جائے گا، چمن،کوئٹہ کراچی موٹروےاورخضدار روڈکا منصوبہ مکمل کیا جائے،  کونسل نےحب میں خصوصی اکنامک زون قائم کرنےکی اصولی منظوری دےدی،  نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کےقیام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

کوسٹل ایریاز کے اطراف سیاحت کو فروغ دینےکے لیے اقدامات شروع کرنے، بوٹ کشتی انڈسٹری کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صوبے میں معدنی وسائل سےاستفادہ کرنےکے لئے تجاویز پر غور کیا گیا ہے، معدنیاتی وسائل کےاعتبارسےصوبہ4زون میں تقسیم کیا جائے گا، چاغی،کوئٹہ،خضدار،لسبیلہ اورکوسٹل زون بنائے جائیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز  وزیر اعظم کی زیر صدارت  قومی سلامتی کمیٹی اجلاس منعقد ہوا تھا،  جس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا

وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، انٹیلی جنس حکام اور سول قیادت شریک ہوئی۔

اجلاس میں سول و عسکری قیادت نے کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا، پاکستان کے بھرپور رد عمل اور ممکنہ آپشنز پر مشاورت مکمل کر لی گئی، ملکی داخلی سلامتی اور سیکورٹی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں