بلوچستان کے عوام کا بنیادی سہولیات پر اتنا ہی حق ہے ،آرمی چیف
The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان کے عوام کا بنیادی سہولیات پر اتنا ہی حق ہے ، جتنا ملک کے دیگر علاقوں کے لوگوں کا ہے، آ رمی چیف

تربت : پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں سہولیات اور امن کی فراہمی ایک خواب تھا جو پورا ہوچکا ہے، بلوچستان کے عوام کا بنیادی سہولیات پر اتنا ہی حق ہے ، جتنا ملک کے دیگر علاقوں کے لوگوں کا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آ رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مکران فیسٹیول کی اختتامی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بالخصوص تربت کے عوام کا بنیادی سہولیات پر اتنا ہی حق ہے ، جتنا ملک کے دیگر علاقوں کے لوگوں کا ، خوشحال بلوچستان پروگرام ایسے ہی لوگوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں سہولتوں کی فراہمی کا خواب پورا ہوچکاہے اور بلوچستان میں امن و امان کی فضا مستحکم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیسٹیول میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت بلوچستان میں امن کی واپسی کا ثبوت ہے، بلوچستان پاکستان کا مستقبل اور خوشحالی کی ضمانت ہے، خوشحال بلوچستان کا مقصدعوام کو ان کے حقوق کی فراہمی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جو بلوچستان کے دورے پر ہیں انہوں نے گذشتہ شب تربت میں بسر کی، اور مقامی عمائدین سے ایف سی ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔


مزید پڑھیں : بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے: آرمی چیف


اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقادر بزنجو، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ،آئی جی ایف سی میجر جنرل طارق امان بھی موجود تھے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آج آواران کا دورہ کریں گے۔

گذشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گوادر کا دورہ کیا، اس موقع انکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن واستحکام کے لیے حکومت سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں، صوبے میں ترقی اور امن کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے، منصوبے عوام کی زندگیاں بدل دیں گے، خوش حال بلوچستان پروگرام سے صوبے میں خوشحالی آئے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق گوادر میں پلانٹ متحدہ عرب امارات اور سوئس حکومت کے تعاون سے تعمیر کیا جارہا ہے، پلانٹ سے فراہمی آب کی گنجائش یومیہ 8۔8 ملین گیلن تک بڑھائی جاسکتی ہے، جبکہ منصوبے کی تکمیل 6 سے 8 ماہ میں مکمل ہوجائے گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں