تحمل کی پالیسی کے ساتھ ساتھ بھرپور جواب بھی دینا جانتے ہیں، آرمی چیف
The news is by your side.

Advertisement

تحمل کی پالیسی کے ساتھ بھرپور جواب دینا جانتے ہیں، آرمی چیف

مہمند ایجنسی : چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے کہا ہے کہ بہادر قبائلی عوام، پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مربوط اور منظم رابطے کے زریعے ہی دہشت گردی کے عفریت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق یہ بات آرمی چیف نے مہمند ایجنسی میں دہشت گردی میں جام شہادت نوش کرنے والے سپایوں کے گھر تعزیت اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کے دوران کہی۔

آرمی چیف نے متنبہ کیا کہ ملک دشمن ایجنسیاں علاقے کے امن سے کھیلنا بند کریں اور یاد رکھیں کہ ہم تحمل کی پالیسی کے ساتھ ساتھ بھرپور جواب دینے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردگروپ افغانستان میں دوبارہ جمع ہو رہے ہیں اور وہاں سے حملہ آور سرحد کے پار کر کے ہماری سرزمین کو نشانہ بنا رے ہیں جب کہ پاک فوج اپنے دفاع مین سرحد پار حملوں کا موثر انداز میں جواب دے رہی ہے۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ ہماری سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال نہیں ہورہی ہے اور ہماری اس تحمل کی پالیسی پر دیگر ممالک بھی مثبت ردعمل دیں۔

ispr-post

انہوں نے کہا کہ شہریوں کےتعاون سےدہشت گردی کوشکست ہو رہی ہے دہشت گرد ہمارے معاشرے میں نا اتفاقی پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہمیں متحد رہ کر دہشت گردوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

آرمی چیف نے مہمند ایجنسی حملے کو ناکام بنانے والے اہلکاروں اور گزشتہ ہفتے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش میں جام شہادت پانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جذبوں کی تعریف کی اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات میں تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی۔

قبائلی عمائدین سے اپنے خطاب میں آرمی چیف نے اعلان کیا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت اور دیگرسہولتیں فراہم کریں گے اس موقع پر کور کمانڈر پشاور سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں