The news is by your side.

Advertisement

قومی اسمبلی:‌ 28 ویں آئینی ترمیم منظور، فوجی عدالتوں‌ کی مدت میں 2 سالہ توسیع

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 28 ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں میں دو سالہ توسیع کی منظوری دے دی، دہشت گردی میں ملوث ملزم کو 24 گھنٹے کے دوران فوجی عدالت میں لازمی پیش کیا جائے گا، ملزم کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں آئین میں 28ویں بار ترمیم کرنے کا بل وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا،  255 ارکان نے بل کی حمایت اور صرف4 ارکان نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے ان چار اراکین میں محمود خان اچکزئی اور جمشید دستی بھی شامل ہیں۔

وزیر قانون نے آرمی ترمیمی ایکٹ 2017ء بھی پیش کیا جس کے تحت فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع کردی گئی۔

28ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1-یہ ترمیم 7 جنوری 2017 سے لاگو ہوگی

2-ایکٹ کے تمام احکامات تاریخ آغاز سے اگلے 2 سال تک نافذ العمل ہوں گے

3-مدت کے اختتام کے بعد ترمیم کے تمام احکامات از خود منسوخ تصور ہوں گے

4-ریاست مخالف اقدامات کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے

5-سنگین اور دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے

6-مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کے مقدمات بھی فوجی عدالتیں دیکھیں گی

آرمی ایکٹ میں ہونے والی ترامیم:

اول ترمیم: دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ملزم کو اس کا جرم بتایا جائے گا

دوم ترمیم: ملزم کو 24 گھنٹے کے دوران فوجی عدالت میں پیش کیا جائے گا

سوم ترمیم: ملزم کو مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت ہوگی

چہارم ترمیم: قانون شہادت کا اطلاق ہوگا

فوجی عدالتوں کی نگرانی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

اس ضمن میں فوجی عدالتوں کی نگرانی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظورکرلی گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تحریک منظورکی گئی جس کے تحت پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ اسپیکر ایاز صادق ہوں گے،کمیٹی فوجی عدالتوں کی کارکردگی سے متعلق امور کی نگرانی کرے گی۔

اپوزیشن کی تجاویز مسترد

اجلاس میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے فوجی عدالتوں کے بل میں ترمیم کے لیے تجاویز پیش کی گئیں تاہم انہیں مسترد کردیا گیا۔

جے یو آئی نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا

28 ویں آئینی ترمیم کے لیے ایوان میں ہونے والی رائے شماری میں جمعیت علمائے اسلام( جے یو آئی) فضل الرحمن گروپ نے حصہ نہیں لیا۔

یہ پڑھیں: فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل آج ایوان میں پیش کیا جائے گا

نمائندہ اے آر وائی نیوز اظہر فاروق نے بتایا کہ پاکستانی آرمی ایکٹ 1952 میں مزید ترمیم کرتے ہوئے ترمیمی ایکٹ 2017ء کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع کردی گئی  ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کی چار ترامیم کو مسترد کردیا گیا اور چار نئی شقیں شامل کی گئی ہیں ، چار نئی شقیں شامل کی گئی ہیں جس کے تحت دہشت گردی کے ملزم پر قانون شہادت لاگو ہوگا، 24 گھنٹے کے دوران ملزم کو فوجی عدالت میں پیش کیا جائےگا، ملزم کو وکیل کرنے کی اجازت ہوگی اگر وہ وکیل نہیں کرسکے گا تو حکومت فراہم کرے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مذہب او ر فرقہ کے غلط استعمال پر بھی یہ بل لاگو ہوگا اس حوالے سے اپوزیشن نے ترامیم پیش کی تھیں کہ مذہب یا فرقہ کا نام نکال دیا جائے لیکن کثرت رائے سے یہ تجویز مسترد کردی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں