The news is by your side.

Advertisement

پاک فوج نے پاناما کیس میں اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا، آئی ایس پی آر

راولپنڈی : آرمی چیف کی زیرصدارت جی ایچ کیو میں کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوج جے آئی ٹی میں قانون کے مطابق شفاف طریقے سے اپنا آئینی کردارادا کرے گی۔

فوج کےشعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی زیر صدارت کورکمانڈرزکانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کورکمانڈرزکانفرنس میں قومی سلامتی‘ خطے میں ہونیوالی حالیہ تبدیلیوں اور آپریشن ردالفساد پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ پاناما کیس  کی جے آئی ٹی سے متعلق امور بھی زیرغور آئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا  ہے کہ ’’ جی ایج کیو میں ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں  پاناماکیس پرسپریم کورٹ کافیصلہ زیرغورآیا ہے اورسپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں فوج شفاف طریقے سے اپنا آئینی کردارادا کرے گی۔

ڈی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج جے آئی ٹی میں قانون کے مطابق شفاف طریقے سے کردارادا کرے گی، اجلاس کےشرکاء نے اس عزم کااظہار کیاکہ فوج ادارے کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے اعتماد پر پورا اترے گی۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس فیصلہ: رقم قطر کیسے گئی‘ جے آئی ٹی بنانے کا حکم


یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی ہر 15روز بعد رپورٹ پیش کرے، وزیراعظم اور ان کے بیٹے حسن اورحسین  نوازتحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہوں گے اور جے آئی ٹی60 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وزیراعظم کی اہلیت کا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ پرہوگا، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی،ایم آئی‘ نیب‘ سیکیورٹی ایکس چینج اورایف آئی اے کا نمائندہ شامل ہوگا۔

یاد رہے کہ پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف 540 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ گزشتہ ہفتے  جمعرات کےروز سنایا گیا تھا جس میں پانچ میں سے دو ججز نے وزیراعظم کو ناہل قراردیا تھا جبکہ باقی تین نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں کو رد کرتے ہوئے مزید تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک  وال پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں