The news is by your side.

Advertisement

امریکا: چرچ میں منشیات فروشی کے الزام میں دو خواتین گرفتار

واشنگٹن : امریکی پولیس نے چرچ میں دوران تقریب میٹھائیوں میں منیشات ملا کر فروخت کرنے والی دو خواتین کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست جارجیا کی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک چرچ سے دو خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے جو چرچ میں جاری تقریب کے دوران منشیات ملی ہوئی مٹھائیاں فروخت کررہی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مارجوانا (بھنگ) بیچنے والی خواتین کی شناخت ایبونی چاپر اور لیہ پریسلی کے نام سے ہوئی ہے جو عوام کو براؤنیز، پوڈنگ اور دیگر میٹھائیاں بھی بیچ رہی تھیں۔

امریکی پولیس کے مطابق منشیات فروش خواتین سے متعلق خفیہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد خواتین کو دوران تقریب رنگے ہاتھوں چرچ سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف مٹھائیوں میں منشیات ملا کر فروخت کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

جارجیا پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چاپر نامی خاتون چرچ کے اندر میز پر منشیات رکھ کر  سرعام فروخت کررہی تاہم چرچ انتظامیہ کو معلوم نہیں تھا وہ تقریب کے دوران غیر قانونی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔

امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خواتین سوشل میڈیا کی مدد سے بھی ماریجوانا کی اسمگلنگ میں ملوث تھیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ واشنگٹن سمیت امریکا کی نو ریاستوں میں ماریجوانا پر پابندی نہیں ہے لیکن ریاست جارجیا میں ماریجوانا کو سرعام فروخت کرنا جرم اور غیر قانونی ہے۔


مزید پڑھیں : بلیک بیری موبائل فون کا منشیات اسمگلنگ میں استعمال ہونے کا انکشاف


یاد رہے کہ تین ماہ قبل امریکی اٹارنی اور ایف بی آئی نے یہ انکشاف کیا تھا کہ کینیڈا سے تعلق رکھنے والا فینٹم سکیور نامی ادارہ معروف کمپنی بلیک بیری کے موبائل فون ڈیوائس میں تبدیلی کر کے عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ کے لیے فروخت کررہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں