The news is by your side.

Advertisement

’تمغے کے لیے بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا‘

کراچی: ٹوکیو اولمپکس کے جیولین تھرو مقابلے میں پانچویں پوزیشن حاصل کرنے والے ایتھلیٹ ارشد ندیم کا کہنا ہے کہ تمغے کے لیے بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’پاور پلے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایتھلیٹ ارشد ندیم نے کہا کہ پاکستان پہنچنے پر پوری قوم نے استقبال کیا بہت خوشی ہوئی، محنت اور ٹریننگ کے ذریعے فائنل تک پہنچا تھا۔

ارشد ندیم نے کہا کہ کورونا سے متاثرہ رہ چکا ہوں لیکن میں نے تربیت جاری رکھی، بھارتی کھلاڑی کی ٹریننگ پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں، بھارتی کھلاڑی کی ورلڈ کلاس ٹریننگ تھی میری ویسی نہیں تھی۔

ایتھلیٹ نے بتایا کہ اسپورٹس بورڈ میں ٹریننگ کی، میاں چنوں میں سہولتیں نہیں تھیں، گھر میں موجود سہولتیں قومی سطح کی بھی نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ ٹوکیو اولمپکس کے جیولین تھروکے فائنل مقابلے میں 12 ایتھلیٹ پہلے مرحلے میں شامل تھے جن میں سے ٹاپ 8 نے اگلے راؤنڈ میں جگہ بنائی۔ ان میں ارشد ندیم 84.62 کے اسکور کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔

میڈل راؤنڈ میں ٹاپ تین کھلاڑیوں کو گولڈ، سلور اور برانز میڈل کا حقدار ٹھہرنا تھا تاہم اس راؤنڈ میں ارشد ندیم متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے اور میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔

دوسرے راؤنڈ میں پاکستان کے ارشد ندیم پانچویں نمبر پر رہے۔ بھارت کے نیرج چوپڑا نے اس مقابلے میں گولڈ، جمہوریہ چیک کے جیکب واڈلیچ نے سلور اور جمہوریہ چیک ہی کے ویتے سلاف ویسلے نے برانز میڈل اپنے نام کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں