The news is by your side.

شہید ارشد شریف کی کینیا سے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ، اہلخانہ نے بڑا دعویٰ کردیا

اسلام آباد : کینیا میں قتل ہونے والے سینیئرصحافی ارشد شریف کے خاندان کا کہنا ہے کہ اُنھیں کینیا سے میت کے ساتھ جو پوسٹ مارٹم اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا جو لفافہ دیا گیا وہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا۔ْ

تفصیلات کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی شہیدارشد شریف کے اہل خانہ سے گفتگو ہوئی۔

اہلخانہ نے بتایا ہمیں پوسٹ مارٹم کی اصل رپورٹ نہیں دی گئی، کینیا سے میت کے ساتھ جو پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہوئی، اس میں کچھ صفحات موجود نہیں تھےاور لفافہ کھلا ہواتھا جبکہ ارشد شریف کی لاش کا پوسٹ مارٹم کینیا میں بھی پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔

اہلخانہ نے کہا ہے کینیا سے آنے والے ان دستاویزات میں کاغذات کی نقل تو موجود ہے لیکن اصلی دستاویزات نہیں ہیں، لفافے کے ساتھ جڑی ’چیک لسٹ‘ میں اصل ڈاکومنٹس کے لف ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

بی بی سی کی ٹیم نے لفافہ اور دستاویزات دیکھیں جن میں اصل کاغذات موجود نہیں تھے، نقول بھی موبائل فون سے لی گئی تصاویر کے پرنٹس ہیں۔

ارشد شریف کےاہلخانہ کے مطابق نیروبی میں پاکستانی سفارتخانے سے اصل دستاویزات اور لفافےکھلے ہونے سے متعلق استفسارکیا تو بتایا گیا سفارتخانے سے اصلی دستاویزات پر مشتمل مہربند لفافہ میت کے ہمراہ بھیجا گیا تھا، لفافہ نیروبی ایئرپورٹ پرکھولا گیا یا دوحہ میں معلوم نہیں۔

خاندانی ذرائع نے بتایا کہ ارشد شریف کی میت نو گھنٹے دوحہ میں موجود رہی، ریسیونگ لیٹر کے مطابق یہ دستاویزات میت کے ہمراہ نہیں تھیں۔

ارشد شریف کی اہلیہ سمعیہ نے بتایا پوسٹ مارٹم کے وقت اُنھیں لیجایا گیا تھا لیکن وہ کچھ لمحوں کے لیے ان کا چہرہ ہی دیکھ سکیں، وہاں موجود تمام افراد کوتصاویر لینے سے منع کردیا تھا۔

فرانزک ماہر کا کہنا ہے کہ میڈیا پر آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مکمل نہیں، پہلے صفحے پر کہیں بھی خراشوں، چوٹوں اور فریکچرز کا ذکرنہیں۔

ان کی دوسری اہلیہ اور صحافی جویریہ صدیق نے بی بی سی کو بتایا میت پر گولی کے نشان تو تھے، جو حصے دیکھے وہاں تشدد کے نشان نہیں تھے، صحافیوں کو توپوسٹ مارٹم رپورٹ دی جارہی ہے انہیں نہیں دی جا رہی۔

تشدد کی تصاویر سامنے آنے پر ارشد شریف کے اہلخانہ نے صدمے کا اظہارکیا، ارشد شریف کی والدہ کا کہنا ہے کہ یہ ریاست کے خلاف جرم ہوا ہے، ریاست کو ہی اس پر کارروائی کرنی چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں