عوامی مینڈیٹ پراستعفے کا فیصلہ فرد واحد نہیں کرسکتا، ارشد وہرہ arshad vohra
The news is by your side.

Advertisement

عوامی مینڈیٹ پراستعفے کا فیصلہ فرد واحد نہیں کرسکتا، ارشد وہرہ

کراچی : ڈپٹی میئر ارشد وہرہ نے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ پر استعفے کا فیصلہ فرد واحد کے کہنے پر نہیں ہونا چاہیے، ایم کیو ایم پاکستان کو چھوڑ چکا ہوں اب ان کے ساتھ کام نہیں کروں گا.

وہ اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان ماریہ میمن کے سوالات کا جواب دے رہے تھے ارشد وہرہ نے دوران گفتگو بتایا کہ عوامی مسائل پرعدم دلچسپی کے باعث ایم کیوایم پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے.

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈپٹی میئر بننے کا مینڈیٹ کس وقت ملا یہ نکتہ بہت اہم ہے اور فاروق ستار ایک فرد واحد ہیں جن کے کہنے پرعوامی مینڈیٹ پراستعفےکا فیصلہ نہیں ہونا چایئے.

ارشد وہرہ نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان سے راہیں جدا کر لی ہیں اور اب ان کے ساتھ کام نہیں کروں گا ویسے بھی ایم کیوایم پاکستان کی کمانڈ میں اس وقت اعتماد کا فقدان ہے اور وہاں ایک یا دو نہیں بلکہ 5 سے 6 دھڑے کام کر رہے ہیں اور نوبت یہ ہے کہ کوئی ایک اکیلے اپنا دھڑا لیے چل رہا ہے.

منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی آر درج ہونے کے حوالے سے ارشد وہرہ نے بتایا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے بیشتر اراکین پر بھی مقدمات ہیں لہذا مقدمات سیاسی جماعتیں تبدیل کرنے کا باعث نہیں بنتیں اوراس سے پہلے بھی مجھ پر دباؤ تھا اور میں چاہتا تو اس وقت پی اسی پی جوائن کرسکتا تھا جب اس وقت مزاحمت دکھائی تو اب کیوں نہیں کرسکتا تھا.

 اسی سے متعلق : ارشد وہرہ کا ایم کیو ایم سے پی ایس پی تک کا سفر

بلدیاتی نظام کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشد وہرہ نے کہا کہ اختیارات اور وسائل نہ ہونے کی بات کبھی نہیں کی اور بلدیاتی مسائل حل کرنے کے لیے ایم کیوایم پاکستان جو کرسکتی ہے وہ بھی نہیں کر رہی ہے.

 یہ بھی پڑھیں : ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ کی پی ایس پی میں شمولیت

ارشد وہرہ نے کہا کہ بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے بہت کچھ ہوسکتا تھا لیکن وسائل نہ ہونے کا ڈھنڈورا پٹنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے کبھی وسائل کے نہ ہونے کا رونا نہیں رویا بلکہ ہمیشہ دستیاب وسائل میں زیادہ زیادہ کارکردگی دکھانے کی کوشش کی اور ناکامی پر خود کو پارٹی سے علیحدہ کردیا.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں