اتوار, مئی 17, 2026
اشتہار

آرٹیمس II کے خلاباز جب چاند کے قریب پہنچے تو انھوں نے کیا دیکھا؟

اشتہار

حیرت انگیز

(11 اپریل 2026): اپنے مشن کے دوران، آرٹیمس II کے عملے نے ایسی چیزیں دیکھیں جو اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں دیکھی تھیں۔ اپولو مشنز کے مقابلے میں چاند کی سطح سے زیادہ بلندی پر پرواز کرتے ہوئے، وہ پہلے انسان بنے جنھوں نے چاند کے دور والے حصے کو مکمل شکل میں دیکھا۔

انھوں نے چاند کے قریب سے سورج گرہن کا بھی مشاہدہ کیا، جب سورج چاند کے پیچھے چلا گیا اور اس کی روشنی نے چاند کو پیچھے سے روشن کیا۔ ناسا کے خلا نورد گلوور نے اس موقع پر کہا ’’شاید انسان نے اس چیز کو دیکھنے کے لیے ارتقا نہیں پایا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے اور دیگر عملے نے چاند کے گرد روشنی کا ایک ہالہ دیکھا، جب کہ اس کا ایک حصہ زمین کی روشنی سے منور تھا۔ زہرہ، مریخ اور زحل بھی ستاروں کے درمیان چمک رہے تھے۔ ’’اسے بیان کرنا واقعی مشکل ہے۔ یہ حیرت انگیز ہے۔‘‘

واضح رہے کہ آرٹیمس II کے خلا نورد چاند کے گرد تاریخی پرواز کے بعد بہ حفاظت زمین پر واپس آ گئے، زمین سے پہلے کسی بھی انسان کے مقابلے میں زیادہ فاصلے تک سفر کرنے کے بعد آرٹیمس II کے خلا بازوں نے جمعہ کی رات کامیابی کے ساتھ سمندر میں لینڈنگ کر لی۔

آرٹیمس II کے خلاباز چاند کا کامیابی سے چکر لگا کر زمین پر بہ حفاظت واپس پہنچ گئے

انسانی تاریخ کا سب سے طویل سفر جمعہ کی شام اس وقت اختتام پذیر ہوا جب ناسا کے آرٹیمس II کے خلاباز چاند کے گرد پرواز کے بعد زمین پر واپس آئے۔ عملے کا اوریون خلائی کیپسول، جس کا نام انٹیگریٹی تھا، بحرالکاہل میں سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے کے فوراً بعد سمندر میں اترا، جس کے ساتھ ہی 10 دن پر مشتمل اور 6 لاکھ 95,000 میل سے زائد فاصلے کا سفر مکمل ہوا، جو چاند کے دور دراز حصے سے آگے جا کر واپسی پر مشتمل تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے مشن کی کامیابی پر خلابازوں کو مبارک باد دی۔ اپنے پیغام میں کہا آرٹیمس II کا پورا سفر شان دار تھا، لینڈنگ بالکل درست تھی، یہ کامیابی ہمارے لیے باعث فخر ہے، خلابازوں سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کا منتظر ہوں، ہم دوبارہ ایسا مشن کریں گے اور اگلا قدم مریخ ہوگا۔

آرٹیمس II کے 4 رکنی عملے (کمانڈر ریڈ وائز مین، پائلٹ وکٹر گلوور، مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ، اور مشن اسپیشلسٹ جیریمی ہینسن) نے زمین سے پہلے کسی بھی انسان کے مقابلے میں زیادہ فاصلہ طے کیا، اور ہمارے سیارے سے 252,756 میل دور تک پہنچے۔

جب خلائی عملہ اپولو 13 کے دوران قائم کیے گئے 248,655 میل کے پچھلے ریکارڈ سے آگے نکلا تو کینیڈین خلا نورد ہینسن نے اس موقع پر کہا ’’ہم اس لمحے کو اس نسل اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک چیلنج کے طور پر چنتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ریکارڈ زیادہ دیر تک قائم نہ رہے۔‘‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں